روزہ
روزہ عربی زبان میں کسی چیز سے رک جانے کو کہتے ہیں،اور اسلامی شریعت کی اصطلاح میں : اللہ کی عبادت کے لیے طلوع فجر ( صبح صادق)سے غروب شمس تک کھانے پینے اور روزہ توڑدینے والی تمام چیزوں سے رک جانے کو روزہ کہتے ہیں:۔
روزہ کے ارکان
۱۔ نیت کرنا
۲۔روزہ توڑنے والی چیزوں سے رکے رہنا
فرض روزے کی نیت
ضروری ہے کہ فرض روزہ کی نیت رات ہی سے کرے،یعنی طلوع فجر سے پہلے،رمضان کے شروع میں نیت کرلینا بھی کافی ہوگا،اور نیت کرنے کی جگہ دل ہے،زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔
نفلی روزے کی نیت
اس کی نیت دن کے کسی بھی حصے میں جائز ہے جب تک وہ روزہ توڑنے والی چیزوں سے رکا رہا ہو،لیکن اجر شمار ہوگا نیت کرنے سے۔
روزے کی قسمیں
واجب
ماہ رمضان ،کفارات اور نذر کے روزے۔
نفل
واجب کے علاہ دیگر روزے ۔
روزہ کے واجب ہونے کی شرطیں
۱۔مسلم ہونا
۲۔عاقل ہونا۔
۳۔بالغ ہونا، غیر بالغ کو روزے کی ترغیب دی جائے گی اور اس کا ولی اس کو اس کا حکم دے گا۔
۴۔مقیم ہونا، مسافر پر روزہ واجب نہیں ہے۔اور بہتر یہ ہے کہ جب سفر میں مشقت نہ ہوتو روزہ رکھے،اس لیے کہ آپ ﷺ نے ایساہی کیا، اور اس لیے بھی کہ ایساکرکے انسان بہت جلد اپنی ذمہ داری سے بری ہو جاتا ہے، اور اس میں روزے دارکے لیے آسانی ہے اور وہ رمضان کی فضیلت کو بھی پا لیتا ہے ۔
۵۔صحت مند ہونا۔
۶۔عورتوں کا حیض ونفاس سے پاک ہونا۔