پہلا: المسائل الأربعة(چار مسائل)
خوب اچھی طرحجان لیں –اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے-(2)
کہ چار مسائل کا جاننا ہمارے اوپر واجب ہے:
پہلا :علم.
اور علم: دلائل کی روشنی میں، اللہ کی، اس کے نبی ﷺ کی اور دین اسلام کی معرفت حاصل کرنے کا نام ہے۔
دوسرا:اس پر عمل کرنا ہے (3
مصنف کے اس متن کو بسم اللہ سے شروع کرنے کے اسباب:
3. اللہ کے برگزیدہ ناموں سے برکت کا حصول۔
2. علماے سابقین اور سلف صالحین کی پیروی۔
1. کتاب اللہ اور انبیاء کی اقتدا۔
(2) جیسا کہ مقدمہ میں ذكر کیا جا چکا ہے کہ مصنف کی عادت ہے کہ طالب علموں کے لئے دعا سے اپنی بات شروع کرتے ہیں، اور ان کے لئے رحمت طلب کرتے ہیں، اور اس میں واضح دلیل ہے:
- علماء اہل سنت والجماعہ کے طلبہ کے ساتھ رحمدلانہ برتاؤ پر
- دین اسلام کے مبنی بر رحمت ہونے پر
علم: دلائل کی روشنی میں حق کو پہچاننا ہے، جس کی ضد جہالت ہے
۔
(3)علم اور عمل کے مابین تعلق کے سلسلے میں کہا گیا ہے کہ: $علم پر اگر عمل کیا جائے تو باقی رہتا ہے ، ورنہ ضائع ہوجاتا ہے#، ایسے علم کا کوئی فائدہ نہیں، جو عمل سے خالی ہو، لہذا علم حاصل کرنے کے بعد اس پر عمل کرنا واجب ہے، تاکہ یہودیوں سے مشابہت نہ ہو، کیونکہ ان کے پاس علم تو تھالیکن وہ عمل سے خالی تھے ﴿ﭔﭕﭖﭗ﴾(وہ تو اسے ایسے پہچانتے ہیں، جیسے اپنے بچوں کو پہچانتے ہیں)۔اور سب سے پہلے جن تین لوگوں سے جہنم سلگائی جائے گی، ان میں سے ایک وہ ہوگا جس نے علم تو حاصل کیا مگر اس پر عمل پیرا نہ ہوا۔
وَعَالِمٌ بِعِلْمِهِ لَمْ يَعْمَلَنْ مُعَذَّبٌ مِنْ قَبْلِِ عُبَّادِ الوَثَنْ
عالم جو اپنے علم پر عمل نہیں کرے گا اسے صنم پرستوں سے پہلے عذاب دیا جائےگا
تیسرا:اس کی طرف دعوت دینا
- 1.دعوت دین خالص اللہ کی خوشنودی کےلئے ہو۔
- 2. دعوت دین علم شرعی پر مبنی ہو۔
- 3.دعوت دین حکمت، دانش مندی اور صبر کے ساتھ ہو۔
- 4.دعوت دین مدعوئين (جنہیں دعوت دی جا رہی ہے) کے احوال کی رعایت کے ساتھ ہو۔
ان شروط کی دلیل ہے:
(اے نبی !) آپ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ میں بھی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں
Quran [12:108]
چوتھا: اس راه میں ملنے والی اذیتوں پر صبر کرنا(1).
زمانے کی قسم ہے۔یقینا انسان خسارے میں ہے۔سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور انہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔
Quran [103:1-3]
(1) مصنف نے دعوت کے بعدصبر کا ذکر کیا ہے، گویا ان کا مقصود یہ ہے کہ جودعوت دین کی راہ کو اختیار کرے گا اسے بھی وہی (پریشانیاں) لاحق ہوں گی جو نبیوں اور رسولوں کو لاحق ہوئی تھیں، لہذا صبر کرنا ضروری ہے۔
.
زمانے کی قسم، بیشک انسان سر تا سر نقصان میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کوصبر کی نصیحت کی۔
- 1. نیک کاموں پر صبر کرنا، یہاں تک کہ ادا کر دیا جائے۔
- 2. گناہ کے کاموں پر صبر کرنا، یہاں تک کہ اجتناب کر لیا جائے۔
- 3. تقدیر میں لکھی ہوئی پریشانیوں پر صبر کرنا، یہاں تک کہ تسلیم کر لیا جائے۔
(2) چاروں مسائل ذکر کرنے کے بعد مؤلف نےقرآن کریم سے سورۃ العصر کو بطور دلیل پیش کیا ہے، اور مؤلف ہمیشہ مسئلہ کو دلیل کے ساتھ ذکر کرتے ہیں،کیوں؟
الأوّل: حتى يربِّي الطالب على الإتباع لا التقليد.
الثاني: حتى تكون عند الطالب حُجَّة يَردُّ بها على المخالِف.