دوسرا: المسائل الثلاثة (تین مسائل)
اللہ تجھ پر رحم فرمائے، جان لو! کہ ہر مسلمان مرد و عورت پر ان تین مسائل کا سیکھنا اور اس پر عمل کرنا واجب ہے(1):
(1) مصنف نے اس جگہ بھی طالب علم کے لئے دعا ئیہ کلمات سے اپنی تحریر کا آغاز کیا ہے۔
مؤلف نے اصول ثلاثہ (تین اصول) کے اندر طالب علم کے لئے تین جگہ پر دعا فرمائی ہے: مسائل اربعہ (چار مسائل) کی شروعات میں، پھر یہاں مسائل ثلاثہ (تین مسائل) کے بیان کے وقت، اور تیسری جگہ ہے: (اعلم أرشدك الله لطاعته أن الحنيفية ملة إبراهيم ...) (جان لیں! -اللہ اپنی اطاعت کی جانب آپ کی رہنمائی فرمائے- کہ حنیفیت ملت ابراہیم ۔۔۔)۔
تین مسائل کو شروع کرنے سے پہلے ایک مقدمہ (تمہید)
توحيد
شریعت میں: اللہکو اس کی تمام خصوصیات ( توحید ربوبیت، الوہیت اور اسماء وصفات ) میں ایک شمار کرنا.
لغت میں: لفظ توحید، فعل وحَّد يوحِّد توحيدًاکامصدر ہے ، کہا جاتا ہےوحَّد الشَّيء؛ یعنی کسی چیز کو ایک شمار کرنا
توحید کی تین قسمیں ہیں:
توحيداسماءوصفات
اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں یا اپنے رسول کی زبانی اپنا جو نام رکھا ہے یا صفت بیان کی ہے اس میں اس کو تنہا ماننا، اور وہ اس طرح کہ اس نے اپنے لئے جو ثابت کیا ہے اس کو ماننا اور جس کی نفی کی ہے اس کا انکار کرنا، وہ بھی بغیر کسی
تحریف، تعطیل، تکییف، اور تمثیل کے۔
توحيد الوہیت
اللہ کو اس کی عبادت میں اکیلا ماننا۔
توحید ربوبیت
اللہ کو اس کے تمام افعال میں اکیلا شمار کرنا، یا:صفت خلق (پیدا کرنے)، ملک (بادشاہت) اور تدبیر وغیرہ میں اللہ کو اکیلا ماننا۔
* اسماء و صفات توقیفی ہیں، ان میں صرف اسی پر انحصار کیا جائے گا جو کتاب و سنت میں وارد ہے، اور وہ اس طرح کہ:
-اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اپنےلئے جو ثابت کیا ہے، یا اس کے رسول نے اس کے لئے جو ثابت کیا ہے، اس کو ثابت کرنا۔
-اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں یا اس کے رسول نے اس کیجانب سے جن چیزوں کی نفی کیہے ان کی بغير کسی تحریف، تعطیل، تکییف اور تمثیل کے نفی (انکار) کرنا، مثلاً: ﴿ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ﴾، (جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند)، ﴿ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ﴾(اور ہمیں تکان نے چھوا تک نہیں)، جس میں اونگھ، نیند اور تکان کی نفی کی گئی ہے۔
پہلا (مسئلہ): کہ اللہ تعالی نے ہمیں پیدا کیا، وہی ہمیں رزق دیتا ہے، اور اس نے ہمیں یونہی بےکار نہیں چھوڑ دیا، بلکہ ہماری رشدو ہدایت کے لیے رسول بھیجا، اب جس نے اس کی اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے نافرمانی کی وہ جہنم رسید ہوگا۔ اور اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے
(اے لوگو !) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول ﷺ بھیج دیا ہے تم پر گواہ بنا کر۔ جیسے کہ ہم نے بھیجا تھا فرعون کی طرف بھی ایک رسول۔پس فرعون نے نافرمانی کی ہمارے رسول ؑ کی تو ہم نے پکڑ لیا اس کو بڑے وبال والی پکڑ۔
Quran [73:15-16]
﴾(1).بیشک ہم نے تمہاری طرف بھی تم پر گواہی دینے والا رسول بھیج دیا ہے ، جیسے کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا، تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے