تین بنیادی اصولوں کا اختتام
جب سارے انسان مر جائیں گے تو انہیں دوبارہ زندہ کیا جائےگا، جس کی دلیل یہ ارشاد باری تعالی ہے
اسی (زمین) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی میں سے ہم تمہیں ایک مرتبہ پھر نکالیں گے
Quran [20:55]
اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوبارہ تم سب کو نکال کھڑا کریں گے۔ اور یہ فرمان باری تعالیٰ:
اور اللہ نے تمہیں اگایا ہے زمین سے جیسے (سبزہ) اُگایا جاتا ہے۔پھر وہ تمہیں لوٹا دے گا اسی میں اور پھر نکالے گا تمہیں جیسے نکالا جاتا ہے۔
Quran [71:17-18]
﴾.اور اللہ نے تم کو زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے (اور پیدا کیا ہے)۔پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائےگا اور (ایک خاص طریقہ) سےپھر نکا لے گا۔ اور دوبارہ اٹھائے جانےکے بعد، ان سے
حساب لیا جائے گا اور انہیں ان کے اعمال
- (1)سارے لوگ یقینی طور موت کا مزہ چکھیں گے، اور دوبارہ اٹھائے جائیں گے، پھر ان سے حساب لیا جائے گا اور انہیں ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دیاجائےگا۔
- (2) جس نے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے اور حساب کتاب کو جھٹلایا تو وہ کافر ہے، کیونکہ اس نے ارکان ایمان میں سے ایک رکن کا انکا ر کیا۔
- (3)نوحسب سے پہلے رسول ہیں، جس کی دلیل اللہ ´ کا یہ فرمان ہے: ﴿ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﴾. یقینا ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد والے نبیوں کی طر کی۔
لیکن سب سے پہلے نبی آدم ہیں جس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ سے جب سوال کیا گیا کہ، کیا آدم نبی ہیں تو آپ نے فرمایا: $وہ ایسے نبی ہیں جن سے اللہ نےبات کی#.
اور سب سے آخری نبی و رسول محمد ﷺ ہیں، جس کی دلیل اللہ ´کا یہ فرمان ہے:﴿ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ﴾. (لوگو! ) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ محمد (ﷺ) نہیں، لیکن آپ اللہ تعالی ٰکے رسول ہیں اور خاتم الانبیا ہیں۔
جس نے بھی نبی ﷺ کے بعد نبوت ورسالت کا دعوی کیا تو وہ جھوٹا اور کافر ہے، اور جس نے اس دعوی کی تصدیق کی وہ بھی کافر ہے۔