صحابہ کا آپ کی تعظیم کرنا
عمرو بن عاص کہتے ہیں: ’’میری نگاہ میں نبی ﷺ سے زیادہ محبوب اور عظیم شخصیت کوئی نہیں تھی، اور میرے دل میں آپ کی تعظیم اس قدر تھی کہ آپ کو جی بھر کر دیکھ بھی نہیں پاتا تھا، اگر مجھ سے نبی ﷺ کے اوصاف بیان کرنے کو کہا جائے تو میں نہیں کر سکتا، کیونکہ آنکھ بھر کر میں نے آپ کو کبھی دیکھا ہی نہیں‘‘۔
عروہ بن مسعود ثقفی نے حدیبیہ کے دن قریش کے سامنے نبی ﷺ کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا تھا: ’’اللہ کی قسم! میں نے کبھی کسی بادشاہ کو بھی نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی ویسی تعظیم کرتے ہوں جیسی صحابہ کرام ، محمد ﷺ کی کرتے ہیں، اللہ کی قسم! اگر وہ کھکھارتے بھی ہیں تو وہ ان کے کسی صحابہ کی ہتھیلی میں گرتی ہے اور وہ اسے اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتے ہیں، جب آپ کوئی حکم فرماتے ہیں تو اس کی بجا آوری کیلیے وہ لوگ دوڑ پڑتے ہیں، جب آپ وضو کرتے ہیں تو اس پانی کو لینے کے لیے مارا ماری ہوتی ہے، اور جب آپ گفتگو کرتے ہیں تو ان کے سامنے وہ ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں، اور آپ کی تعظیم میں آپ کی
طرف نگاہ اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں ہیں‘‘۔
اللہ کا ادب کرنا
عبد اللہ بن شخیر کہتے ہیں: ’’ہم نے کہا: آپ ہمارے’ سید‘ ہیں، تو آپ نے فرمایا: سید تو اللہ تعالیٰ ہے، تو ہم نے کہا: آپ بخشش وداد ودہش میں سب سے افضل و اعلی ہیں، تو آپ نے فرمایا: اپنی یہ بات یا اسی طرح کی اور بات کہو، اور محتاط رہو کہ شیطان کہیں تمہیں اپنا وکیل نہ بنا لے‘‘۔
آپکی بہادری
علی کہتے ہیں: ’’جب گھماسان کی لڑائی ہوتی اور دشمن ایک دوسرے کے مقابل ہوتا تو ہم رسول اللہ ﷺ کو ڈھال بناتے تھے، آپ سے زیادہ دشمن کے قریب کوئی نہیں ہوتا‘‘۔
خشیت
نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! میں سب سے زیادہ اللہ کی خشیت اور تقوی اپنانے والا ہوں ‘‘۔
اہل خانہ کے ساتھ احسان
نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں تم میں اپنے گھروالوں کے لیے سب سے بہتر ہوں‘‘۔
شرم وحیاء
ابو سعید خدری کہتے ہیں : ’’نبیﷺ گھروں میں رہنے والی کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ با حیا تھے، جب آپ کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھتے تو ہم اسے آپ کے چہرے سے پتہ لگا لیا کرتے تھے‘‘۔
آسانی
عائشہ فرماتی ہیں: ’’نبی ﷺ کو جب بھی دو چیزوں کے درمیان چننے کا اختیار دیا جاتا تو آپ سب سےزیادہ آسان چیز اختیار کرتے تھے بشرطیکہ اس میں گناہ نہ ہو، اور اگر اسمیں گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے‘‘۔
اپنے لیے انتقام نہیں لیتے
عائشہ فرماتى ہیں: ’’اللہ کی قسم! آپ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا، البتہ جب اللہ کی حرمات کی پامالی ہوتی تو آپ اللہ کے لیے انتقام لیتے تھے‘‘۔
کھانا میں عیب نہیں نکالتے
عائشہ فرماتی ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر خواہش ہوتی تو کھا لیتے اور اگر ناپسند ہوتا تو چھوڑ دیتے‘‘۔
ہدیہ قبول کرتے
عائشہ فرماتی ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ ہدیہ قبول کرتے تھے اور اس کا بدلہ بھی دیا کرتے تھے‘‘۔
صدقہ نہیں کھاتے تھے
نبی ﷺ نے فرمایا: ’’محمد اور آل محمد صدقہ نہیں کھاتے ہیں‘‘۔
آپ کا تواضع
عقبہ بن عامر کہتے ہیں: نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور آپ نے اس سے گفتگو کی تو وہ ڈر کے مارے کانپنے لگا، آپ ﷺ نے اس سے کہا: ’’پرسکون ہو جاؤ، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں، میں ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو دھوپ میں سکھائے ہوئے گوشت کھاتی تھی‘‘۔
اہل خانہ کی خدمت
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ سے پوچھا: نبی ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے بتایا کہ: ’’آپ گھروالوں کے کام میں لگے رہتے تھے، اورجب نماز کا وقت ہوجاتا تو نماز کے لیے نکل جاتے‘‘۔
جاہلوں سے در گزر
نبی ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم لوگوں کو تعجب نہیں ہوتا کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے مجھ سے قریش کے سب وشتم اور لعنت کو دور کر دیا ہے؟ وہ کسی قابل مذمت شخص کو ’مذمم‘ کہکر گالی دیتے اور لعن وطعن کرتے ہیں، جبکہ میں تو محمد (قابل تعریف وستائش) ہوں‘‘۔
آپکی سچائی
عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ: ’’ہم سے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا اور آپ سچے ہیں اور آپ کی سچائی ہر جگہ ظاہر ہے‘‘۔
خادموں کے ساتھ حسن اخلاق
انس کہتے ہیں: ’’میں نے دس سال تک نبی ﷺ کی خدمت کی، اللہ کی قسم آپ نے کبھی مجھے ’اف‘ بھی نہیں کہا، اور نہ کوئی کام جسے میں نے کیا تو یہ کہا کہ: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اور جب کوئی کام نہیں کیا تو یہ نہیں کہا کہ: تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ ‘‘۔