جعفر کا آنا
نبی ﷺ خیبر ہی میں تھے کہ ابو ہریرہ مسلمان ہو کر مدینہ تشریف لائے، اور اسی وقت آپ کے چچیرے بھائی جعفر بن ابو طالب اور جو لوگ ان کے ساتھ حبشہ میں تھے واپس آئے اور خیبر ہی میں نبی ﷺ سے ملاقات ہو گئی، اور ان کے ساتھ قبیلۂ اشعر کےابو موسی اشعری بھی تشریف لائے۔
غزوۂ موتہ
سَن سات ہجری میں غزوۂ موتہ پیش آیا، اور اس کا سبب یہ تھا کہ شرحبیل بن عمرو غسانی نے رسول اللہ ﷺ کے روم کی طرف بھیجے ہوئے قاصد کو قتل کر ڈالا، تو نبی ﷺ نے تین ہزار صحابہ کی تعداد بھیجی جن کا امیر اپنے چہیتے زید بن حارثہ کو مقرر کیا، اور فرمایا: ’’اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابو طالب لوگوں کے امیر ہوں گے، اور اگر جعفر کو کچھ ہو جائے تو عبد اللہ بن رواحہ امیر ہوں گے ‘‘، ادھر سے ہرقل اور ان کے عرب حلیف دو لاکھ کی تعداد میں نکلے، موتہ نامی مقام پر دونوں لشکر کی لڑائی ہوئی، آپ ﷺ کے سبھی امراء شہید کردئے گئے تو خالد بن ولید نے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لیا اور لشکر کی بڑی چابکدستی سے قیادت کی اور مسلمانوں کو وہاں سے نکال لائے اور اس طرح اللہ اور مسلمانوں کے دشمن سے ان کی حفاظت کی۔
فتح مکہ عظیم
اسی سال قریش کے حلیف بنو بکر نے قبیلۂ خزاعہ کے اوپر چڑھائی کر دی جو نبی ﷺ کا حلیف تھا، اور خفیہ طور پر قریش نے ان کی مدد کی، نبی ﷺ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے مکہ فتح کرنے کا عزم مصمم کر لیا، یہ دیکھ کر ابو سفیان مدینہ آئے کہ آپ سے گفتگو کریں لیکن آپ نے ایک نہ سنی تو انہوں نے ابو بکر، عمر اور علی سے سفارش کرانی چاہی لیکن انہوں نے بھی انکار کر دیا، اور نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ قریش کو اس معنی میں اندھا کر دے کہ انہیں آپ کے نکلنے کی بھنک نہ لگے تو اللہ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی، اور نبی ﷺ دس ہزار کی تعداد میں نکلے یہاں تک کہ مکہ میں داخل ہو گئے۔
فتح مکہ سے کچھ عرصہ قبل رسول اللہ ﷺ کے چچا عباس بن عبد المطلب نے اسلام قبول کیا۔
جو باتیں آپ نے فتح مکہ کے وقت کہی تھیں ان میں سے یہ تھا کہ: ’’جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو گیا وہ امن میں ہے، جو مسجد میں داخل ہوگیا وہ امن میں ہے اور جس نے اپنا دروازہ بند کر لیا وہ امن میں ہے‘‘، اس طرح نبی ﷺ نے صرف اسی سے قتال کیا جس کی طرف سے لڑائی کی پہل ہوئی، سوائے چند لوگوں کے جنہوں نے نبی ﷺ اور مسلمانوں کو بڑی تکلیفیں پہنچائی تھیں آپ نے ان کا خون رائیگاں قرار دیا۔
نبی ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو بغیر احرام کے ہی بیت اللہ کا طواف کیا، پھر عثمان بن طلحہ کو بلایا اور ان سے کعبہ کی چابی لی اور اس کے اندر و اِرد گرد جتنے بت تھے سبھی کو توڑ ڈالا، پھر چابی عثمان بن طلحہ کو واپس کر دی۔
فتح مکہ کے بعد ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا، بلکہ قبائل جوق در جوق نبی ﷺ کے پاس مسلمان ہو کر آیا کرتے تھے۔
بتوں کو پاش پاش کرنا
اللہ نے جب اپنے نبی کے ہاتھوں مکہ فتح کروا دیا تو نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو مکہ کے اِردگرد موجود بتوں کو توڑنے کے لیے بھیجا، عمرو بن عاص کو سواع توڑنے کے لیے بھیجا، سعد بن زید کو منات توڑنے کے لیے بھیجا، خالد بن ولید کو عُزّی منہدم کرنے کے لیے بھیجا، اور طفیل کو ذو الکفین توڑنے کے لیے بھیجا اور علی کو قبیلۂ طی کا بت توڑنے کے لیے بھیجا۔
غزوۂ حنین
جب ہوازن والوں نے فتح مکہ کے بارے میں سنا تو اکٹھا ہو کر رسول اللہ ﷺ سے لڑنے کے لیے نکلے اور اپنے ساتھ اپنا مال، عورتیں اور بچے سبھی لے آئے، نبی ﷺ بھی بارہ ہزار لوگوں کے ساتھ نکلے،مسلمان کثرت تعداد کی بنا پر عُجب میں مبتلا ہو گئے یہاں تک کہ جب وہ وادی حنین پہنچے، تو ہوازن نے ان پر یکبارگی حملہ کر دیا جس کی وجہ سے گھبراہٹ میں مسلمان نبی ﷺ سے دور ہو گئے، اور آپ کے ساتھ آپ کے اہل بیت میں سے کچھ لوگ اور مہاجرین میں سےکچھ لوگ باقی رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ثابت قدمی عطا فرمائی تو وہ نبی ﷺ کی طرف پلٹ کر آئے اور آپ کے ساتھ مل کر جنگ لڑی یہاں تک کہ اللہ نے انہیں دشمنوں پر فتح دی، اور ہوازن بھاگ کر طائف چلے گئے۔
پھر ہوازن کے چودہ لوگ مسلمان ہو کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ان کے قیدیوں کو آزاد کر کے آپ ان پر احسان کریں تو آپنے ایسا ہی کیا اور دیکھا دیکھی صحابہ کرام نے بھی ایسا کیا۔
غزوۂ طائف
جب آپ ﷺ ہوازن سے فارغ ہوئے تو آپ نے غزوۂ طائف کا عزم کیا، لہذا وہاں پہنچ کر آپ نے آٹھ دنوں تک ان کا محاصرہ کیے رکھا، پھر بغیر لڑے واپس لوٹ آئے۔
غزوۂ تبوک
سَن نو ہجری میں غزوۂ تبوک (غزوۂ عسرہ) پیش آیا، وہ وقت انتہائی گرمی ،پھلوں کے پکنے اور سایہ میں رہنے کا تھا، ایسے وقت میں جنگ کے لیے نکلنا لوگوں کے لیے بڑا دشوار تھا، نبی ﷺ نے جب نکلنے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں کو خرچ کرنے کے لیے ابھارا، حضرت عثمان نے تین سو اونٹ مع پالان و ٹاٹ کے دیا اور ساتھ میں ایک ہزار دینار بھی دیا، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’آج کے بعد عثمان جو بھی کریں انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا‘‘، اور دیگر صحابہ کرام نے بھی حسب استطاعت خرچ کیا۔
اس جنگ سے عام منافقین پیچھے ہٹ گئے، اور نبی ﷺ کے تین بہترین صحابہ کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع بھی بغیر کسی عذر کے اس جنگ سے پیچھے رہ گئے، نبی ﷺ کے مدینہ لوٹنے کے بعد انہوں نے اپنا عذر پیش کیا، اور انہیں کے بارے میں سورہ توبہ کی یہ آیت نازل ہوئی تھی: ﴿ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ﴾[توبہ:١١٨]، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی سچائی کے سبب ان کی توبہ قبول فر ما لی، اور اس سورت میں منافقین کی مذمت فرمائی اور اسی پر سورت کا خاتمہ فرمایا، اسی لیے اس سورت کو فاضحہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے ان لوگوں کی فضیحت کر دی تھی۔