آپ آسان دین حنیف دے کر بھیجے گئے
ابن القیم فرماتے ہیں: ’’حنیفیہ اور سمحہ کے مابین جمع کرنے کا مطلب ہے کہ: حنیفیہ (یکسوئی) ہے توحید میں، اور سمحہ (آسانی) ہے اخلاق میں، اور ان دونوں کی ضد ہے: شرک اور حلال کو حرام قرار دینا‘‘۔
آپ ثقلین کے لیے بھیجے گئے
نبی ﷺ نے فرمایا: ’’(مجھ سے پہلے)نبی خاص طور سے اپنی قوم کے لیے بھیجے جاتے تھے، جبکہ میں سارے لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں‘
۔
آپ کی کتاب اور دعوت
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (الرٰ، اے رسول یہ وہ کتاب ہے جس کو ہم نے آپ کے اوپر اس لیے اتارا ہے کہ آپ لوگوں کو اپنے رب کے حکم سے اندھیرے سے اجالے میں لائیں غالب اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے) ابراہیم: ۱۔
آپکی آیات
آپکی سب سے بڑی آیت (نشانی) قرآن ہے، اور کوئی بھی آیت (نشانی) جو آپ سے پہلے نبی یا رسول کو دی گئی تھی اس میں سے آپ کو بھی حصہ ملا تھا۔
آپ سے محبت کرنا دین ہے
نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں کا کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد ، والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں‘‘۔
آپسے بغض رکھنے کا حکم
ایسا شخص کفر اکبر کا مرتکب کافر ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (یقینا آپ کا دشمن ہی لاوارث اور بے نام ونشان رہے گا)۔ الکوثر: ۳ ۔
خلیل اللہ
نبی ﷺ نےفرمایا: ’’اللہ نے مجھے ویسے ہی خلیل بنا لیا ہے جیسے ابراہیم کو خلیل بنایا تھا‘‘۔
اولو العزم میں سے ایک ہیں
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (جبکہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد ومیثاق لیا اور -خاص طور سے- آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسی سے اور مریم کے بیٹے
عیسی سے)۔ [الاحزاب: ۷]
آپ کا علم
نبی ﷺ نے فرمایا: ’’میں تم میں سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا ہوں‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (آپ کہہ دیجیے ، میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ) [الانعام: ۵۰]
۔نبی ﷺ کے فرمانبردار اور نافرمان کا حکم
ارشاد باری ہے:(آپ کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے)۔[آل عمران: ۳۱]، اور مزید فرمایا: (تم سستی نہ کرو اور نہ غمگین ہو، تم ہی غالب رہوگے، اگر تم ایمان دار ہو)۔ [آل عمران: ۱۳۹]، اور نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ہر شخص جنت میں داخل ہوگا سوائے اس کے جس نے انکار کیا‘‘، لوگوں نے کہا: کس نے انکار کیا اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ’’جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے نافرمانی کی اس نے انکار کیا‘‘ اور آپ ﷺ نے فرمایا:’’ میرے حکم کی مخالفت کرنے والوں کے لیے
ذلت ورسوائی مقدر کر دی گئی ہے‘‘
نبی ﷺکی امت
ارشاد ربانی ہے: (تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو) [آل
عمران: ۱۱۰] اور نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا آدھا حصہ ہوگے‘‘۔
آپ ﷺ کا وطن
آپ کا وطن مکہ تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اللہ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ (شریف) میں ہے جو تمام دنیا کے لیے برکت وہدایت والا ہے، جس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ہے، اس میں جو آجائے امن والا ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راہ پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے، اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ (اس سے بلکہ) تمام دنیا سے بے پروا ہے) [آل عمران:۹۶-۹۷]۔
اور مکہ حرمت والا شہر ہے، آپ نے فرمایا: ’’بیشک اس شہر کو اللہ تعالیٰ نے اسی دن سے حرام قرار دیا ہے جس دن آسمان وزمین کو پیدا کیا تھا لہذا وہ اللہ کے حرام
قرار دینے کی وجہ سے حرمت والا ہے‘‘ اور قیامت تک یہ مسلمانوں کا ملک رہیگا، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں‘‘۔
آپ ﷺ کا قبلہ
آپ ﷺ کا قبلہ کعبہ تھا، اور اس سے پہلے بیت المقدس تھا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: (ہم آپکے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپکو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں، آپ اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا چہرہ اسی طرف پھیرا کریں) [البقرۃ: ۱۴۴]۔
اور مسجد حرام اس روئے زمین پر بننے والی سب سے پہلی مسجد ہے، ابو ذر کہتے ہیں: ’’میں نے رسول اللہ ﷺ سے روئے زمین پر بننے والی پہلی مسجد کے بارے میں پوچھا تو آپنے فرمایا: وہ مسجد حرام ہے‘‘۔
اور نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جو اس گھر کو آئے پھر وہ نہ جماع کے قریب گیا اور نہ ہی فسق والے کام کیا ، تو وہ ایسے پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے وہ ماں کے پیٹ سے
پیدا ہوا تھا‘‘۔
آپ ﷺ کا قبلہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ’’مسجد حرام میں ایک نماز ایک لاکھ نماز کے برابر ہے، اور میری مسجد میں ایک نماز ایک ہزار کے نماز کے برابر ہے، اور بیت المقدس میں ایک نماز پانچ سو نماز کے برابر ہے‘‘۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’صرف تین مسجدوں کے لیے رخت سفر باندھا جائے گا: مسجد حرام، میری مسجد (نبوی) اور مسجد اقصی‘‘۔
اور نبی ﷺ نے مزید فرمایا: ’’جب تم پیشاب پیخانہ کے لیے آؤ تو قبلہ رخ نہ بیٹھو اور نہ ہی ادھر پیٹھ کر کے بیٹھو، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف ہو کر بیٹھ جاؤ‘‘۔
[نوٹ: یہ حکم اہل مدینہ یا ہر اس علاقہ والوں کے لیے ہے جن کا قبلہ جنوب یا شمال کی طرف ہے، لیکن جن کا قبلہ مغرب یا مشرق کی طرف ہے ان کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ جنوب وشمال کی طرف رخ کر کے بیٹھیں]
۔نبی ﷺ کی بیویاں اور قرابت دار
[1] قاسم، اور انہیں کے نام پر آپکی کنیت تھی
[2] زينب
[3] رقيہ
[4] ام کلثوم
[5] فاطمہ
[6] عبد الله، اور ان کالقب طیب اور طاہر تھا
[7] ابراہیم، یہ نبی ﷺ کی لونڈی ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے، اور آپ کی بقیہ سبھی اولاد حضرت خدیجہ کے بطن سے ہوئی ، ان کے علاوہ کسی اور بیوی سے آپ کو کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
آپکی سبھی اولاد آپ کی زندگی ہی میں فوت ہو چکی تھی سوائے فاطمہ کے ، ان کی وفات آپ ﷺ کی وفات کے چھ مہینے بعد ہوئی، اس صبر اور احتساب کے بدلے اللہ تعالیٰ نے سیدہ فاطمہ کے درجات بلند فرمائے اور سارے جہان کی عورتوں پر فضیلت دی، اور فاطمہ مطلق طور پر آپ کی بیٹیوں میں سب سے افضل ہیں۔
آپ کی سبھی بیٹیوں نے اسلام کا زمانہ پایا اور اسلام قبول کیا اور آپ کے ساتھ ہجرت کیں۔
نبی ﷺ کے گیارہ چچا تھے
[1] سيد الشہداء حمزہ
[2] عباس
[3] ابو طالب، اور ان کا نام عبد مناف تھا
[4] ابو لهب، اور اس کا نام عبد العزی تھا
[5] زبير
[6] عبد الكعبہ
[7] المُقوِّم
[8] ضِرار
[9] قثم
[10] المُغيرة، اور اس کا لقب حجل تھا
[11] الغَيداق، اور اس کا نام مصعب تھا
نبی ﷺ کے چچا میں سے صرف حمزہ اور عباس نے اسلام قبول کیا
۔آپکی چھ پھوپھیاں
[1] صفيَّہ، اور یہ زبیر بن عوام کی ماں تھیں
[2] ام حكيم البيضاء
[4] برَّة
[5] اروى
[6] امیمہ