English flag
English
Select a Language
English flag
English
Arabic flag
Arabic
French flag
French
German flag
German
Indonesian flag
Indonesian
Persian flag
Persian
Russian flag
Russian
Spanish flag
Spanish
Urdu flag
Urdu
English icon English
مختصر سیرت وشمائل نبی ﷺ 

نبی ﷺ کے پہننے اوڑھنے اور کھانے پینے کا طریقہ

Study Duration
9 Min

آپ کا سب سے پسندیدہ رنگ

آپ ﷺ کا سب سے پسندیدہ رنگ سفید تھا، چنانچہ آپ نے فرمایا: ’’یہ تمہارا سب سے عمدہ کپڑا ہے اس کو پہنو اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن بھی دو‘‘۔

آپ کا لباس

جو بھی لباس میسر ہوتا آپ اسے پہن لیتے، کبھی اونی، کبھی سوتی اور کبھی کتان (لینن) کا بنا ہوا کپڑا پہنتے، اور جب آپ قمیض پہنتے تو داہنی جانب سے شروع کرتے ۔

لباس میں نبی ﷺ کی میانہ روی

بعض سلف کا کہنا ہے کہ: (سلف صالحین دو طرح کے شہرت والے کپڑوں کو ناپسند کرتے تھے ایک بہت مہنگا اور دوسرا بہت سستا)، اور ابن عمر ﷟ کی حدیث میں ہے: ’’جس نے شہرت والا لباس پہنا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے ذلت کا لباس پہنائے گا پھر اس میں آگ بھڑک اٹھے گی‘‘ کیونکہ اس نے اس کے ذریعہ فخر ومباہات کا ارادہ کیا تھا لہذا اللہ نے اس کو سزاد ی، اور ابن عمر ﷜ سے ہی مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے تکبر کرتے ہوئے اپنا لباس زمین پر گھسیٹا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا‘‘۔

آپ ﷺ کا کھانا

جو موجود ہوتا اسےنہیں لوٹاتے اور جو نہ ہوتا اس کے لیے تکلف نہیں فرماتے تھے، جو بھی پاکیزہ چیز آپ کو پیش کی جاتی آپ تناول فرماتے، الا یہ کہ کوئی ایسی چیز ہو جس کو نفس ناپسند کرے تو اسے حرام قرار دیئے  بغیر لوٹا دیتے، عائشہ ﷞ فرماتی ہیں:’’آپ نے کبھی کسی کھانے میں عیب جوئی نہیں کی، اگر خواہش ہوتی تو تناول  فرماتے اور اگر  ناپسند ہوتا تو چھوڑ دیتے‘‘، جیسے آپ نے گوہ نہیں کھایا کیونکہ یہ آپ کی زمین میں نہیں پائی جاتی تھی۔

آپ کےنوش فرمانے کا طریقہ

  • زیادہ تر آپ کا کھانا زمین پر دسترخوان پر رکھا جاتا جس کو آپ نوش فرماتے۔
  • آپ اپنی تین انگلیوں سے کھانا کھاتے تھے۔
  • آپ ٹیک لگا کر نہیں کھاتے تھے۔
  • کھانے کے شروع میں بسم الله کہتے اور اخیر میں اللہ کی حمد وثنا  بیان کرتے۔
  • جب کھانے سے فارغ ہوتے تو اپنی انگلیاں چاٹتے تھے۔

آپ ﷺ کا پینا

  • زیادہ تر آپ بیٹھ کر پانی پیتے تھے، بلکہ آپ نے کھڑے ہو کر پانی پینے والے کو ڈانٹ پلائی، اور کھڑے ہو کر پینا اس صورت میں جائز ہے جبکہ بیٹھنے کی کوئی صورت نہ بنتی ہو۔
  • نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تمہاری دنیا میں سے دو چیزیں مجھے انتہائی مرغوب ہیں: عورت  اور خوشبو، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘۔
  • آپ رات گزارنے،  ٹھہرنے اور نفقہ تمام بیویوں کے درمیان برابر تقسیم کرتے تھے۔
  • عائشہ ﷞ فرماتی ہیں: ’’جب آپ سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے مابین قرعہ اندازی کرتے، اور جن کا نام آتا وہ آپ کے ساتھ سفر پر نکلتیں، اور باقی ماندہ کے لیے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے تھے‘‘۔
  • اپنی بیویوں کے ساتھ آپ کا طریقہ حسن معاشرت اور حسن اخلاق کا ہوتا تھا۔
  • آپ عائشہ ﷞ کے پیچھے پیچھے آتے جہاں وہ انصار کی لڑکیوں کے ساتھ کھیلا کرتیں، اور جب وہ کسی ایسی چیز کی خواہش کرتیں جو شرعی طور پر محذور نہ ہوتا تو آپ ان کی خواہش پوری کر دیتے۔
  • آپ ان کی گود میں سر رکھ کر سو جاتے اور قرآن پڑھتے اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وہ حائضہ ہوتیں۔
  • جب وہ حائضہ ہوتیں تو انہیں لنگوٹ باندھنے کا حکم دیتے اور پھر ان کے ساتھ لپٹ کر سو جاتے ۔
  • آپ روزہ کی حالت میں بھی ان کا بوسہ لیا کرتے تھے۔
  • آپ کے لطف اور حسن اخلاق کا یہ عالم تھا کہ آپ انہیں کھیلنے دیتے اور دوران سفر دو دفعہ آپ نےان کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا۔
  • جب آپ سفر سے آتے تو رات کو اہل خانہ  کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتے اور دوسروں کو بھی اس سے منع کرتے۔
  • جب آپ پی چکتے تو اپنے داہنے بیٹھے شخص کو دیتے گرچہ بائیں طرف قوم کی بڑی شخصیات ہی کیوں نہ ہوتیں۔

نبی ﷺ کے سونے اور جاگنے کا طریقہ

  • نبی ﷺ جب سونے کے لیے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے: «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَحْيَا وَأَمُوتُ»،  اور ’’جب بستر پر لیٹتے تو ہر رات اپنی ہتھیلیاں ملاتے پھر اس میں پھونک مار کر پڑھتے: ﴿قُل هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ وَ﴿ قُل أَعوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ﴾، پھر جہاں تک ممکن ہوتا دونوں ہتھیلیوں کو اپنے جسم پر پھیرتے، اور اس کام کی شروعات  اپنے سر ، چہرہ اور جسم کے اگلے حصے سے  کرتے، ایسا آپ تین دفعہ کرتے‘‘ اور ’’جب آپ سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنے داہنے ہاتھ کو اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ، اس دعا کو تین دفعہ پڑھتے‘‘،  اور جب نیند سے بیدار ہوتے تو پڑھتے: «الْحَمْدُ لله الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ»، پھر مسواک کرتے۔
  • آپ رات کے پہلے حصے میں سوتے اور آخری حصے میں قیام کرتے، اور کبھی مسلمانوں کی مصلحت کی خاطر رات کے ابتدائی حصے میں جاگا بھی کرتے۔
  • نبی ﷺ کی آنکھیں سوتی تھیں دل نہیں سوتا تھا۔
  • جب آپ سوتے تو کوئی آپ کو بیدار نہیں کرتا تھا یہاں تک کہ آپ خود بیدار ہو جائیں۔
  • آپ ﷺ کی نیند بالکل معتدل ہوتی تھی، اور یہی طریقہ نیند کے لیے سب سے مفید ہے۔

معاملات میں نبی ﷺ کا طریقہ

  • نبی ﷺ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے اور ہنسی مذاق میں بھی آپ سچ ہی بولا کرتے تھے۔
  • نبی ﷺ (بعض اوقات) توریہ  کیا کرتے تھے اور توریہ میں بھی سچ ہی بولا کرتے تھے۔ (اور توریہ کہتے ہیں: بولنا کچھ ، اورمراد لینا کچھ اور)
  • نبی ﷺ مشورہ دیتے تھے اور باہم مشورہ بھی کیا کرتے تھے۔
  • نبی ﷺ مریضوں کی عیادت کرتے، جنازہ میں شامل ہوتے، دعوت قبول کرتے، بیواؤں، مسکینوں اور کمزوروں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگے رہتے تھے۔
  • آپ اچھے اشعار سنتے اور اس پر بدلہ بھی دیا کرتے اور آپ کی جو تعریفیں کی گئی ہیں وہ آپ میں موجود قابل ستائش صفات کا تھوڑا سا حصہ ہیں، جبکہ دوسرے لوگوں کی تعریف اکثر جھوٹی ہی ہوتی ہے۔
  • نبی ﷺ اپنے جوتے خود گانٹھ لیتے، کپڑے میں خود سے  پیوند لگا لیتے، اپنے ڈول کی مرمت کر لیتے، بکری دوہ لیتے، کپڑوں سے جوں نکال لیتے، اہل خانہ اور اپنی خدمت آپ  کرتے، اور مسجد کی تعمیر کے لیے صحابہ ﷡ کے ساتھ مل کر اینٹ اٹھاتے تھے۔
  • کبھی بھوک کے مارے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے اور کبھی آسودگی بھی ہو جاتی ۔
  • نبی ﷺ ضیافت کرتے تھے اور مہمان بھی بنا کرتے تھے۔
  • نبی ﷺ نے سر کے بیچ ،پاؤں کےا وپری حصہ، گلے کی رگ اور گردن کے اوپری حصہ میں پچھنا لگوایا۔
  • نبی ﷺ نے علاج کیا، آگ سے داغا لیکن کسی سے داغنے کے لیے نہیں کہا، جھاڑ پھونک کیا لیکن کسی سے جھاڑپھونک طلب نہیں کیا،  اور بیمار کی تکلیف دہ چیزوں سے حفاظت فرمائی۔
  • معاملہ کرنے میں آپ سب سے اچھے تھے، جب آپ قرض لیتے تو اسے بہتر انداز میں واپس  لوٹاتے۔

نبی ﷺ کے چلنے کا انداز

  • نبی ﷺ سب سے تیز، سب سے عمدہ  اور سب سے متوازن چال چلتے تھے۔
  • آپ صحابہ سے زیادہ تیز چلنے والے تھے اور انہیں آپ کے ساتھ چلنے کے لیے بڑی محنت کرنی پڑتی۔
  • آ پ ﷺ  کبھی جوتا پہن کر تو کبھی ننگے پاؤں چلا کرتے تھے۔
  • صحابہ ﷡ آپ ﷺ کے آگے اور آپ سب کے پیچھے چلتے تھے۔
  • آپ ﷺ اپنے صحابہ ﷡  کے ساتھ کبھی جماعت میں تو کبھی اکیلے چلا کرتے۔

نبی ﷺ کے ذکر کا  انداز

  • نبی ﷺ سب سے مکمل طور پر اللہ کا ذکر کرنے والے تھے، بلکہ آپ کا سارا کلام ہی اللہ کے ذکر سے بھرا ہوتا تھا۔
  • نبی ﷺ جب نیند سےبیدار ہوتے،نماز شروع کرتے ، مسجد میں داخل ہوتے، صبح اور شام میں، کپڑا پہنتے وقت، گھر میں داخل ہوتے یا  گھر سے نکلتے، بیت الخلاء میں داخل ہوتے، وضو سے پہلے  اور بعد میں، جب اذان سنتے، مہینہ کا چاند دیکھتے، کھانے  کے پہلے اور بعد میں، اور چھینکتے وقت اللہ کا ذکر  کیا کرتے تھے۔

Text Lesson 9/26
You are viewing
نبی ﷺ کے پہننے اوڑھنے اور کھانے پینے کا طریقہ