نبی ﷺ کی سات اولاد تھی: تین بیٹے اور چار بیٹیاں
[1] قاسم، اور انہیں کے نام پر آپکی کنیت تھی
[2] زينب
[3] رقيہ
[4] ام کلثوم
[5] فاطمہ
[6] عبد الله، اور ان کالقب طیب اور طاہر تھا
[7] ابراہیم، یہ نبی ﷺ کی لونڈی ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے، اور آپ کی بقیہ سبھی اولاد حضرت خدیجہ کے بطن سے ہوئی ، ان کے علاوہ کسی اور بیوی سے آپ کو کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
آپکی سبھی اولاد آپ کی زندگی ہی میں فوت ہو چکی تھی سوائے فاطمہ کے ، ان کی وفات آپ ﷺ کی وفات کے چھ مہینے بعد ہوئی، اس صبر اور احتساب کے بدلے اللہ تعالیٰ نے سیدہ فاطمہ کے درجات بلند فرمائے اور سارے جہان کی عورتوں پر فضیلت دی، اور فاطمہ مطلق طور پر آپ کی بیٹیوں میں سب سے افضل ہیں۔
آپ کی سبھی بیٹیوں نے اسلام کا زمانہ پایا اور اسلام قبول کیا اور آپ کے ساتھ ہجرت کیں۔
حجز
(حاء) = حفصہ بنت عمر بن خطاب ۔
(جيم) = جويريہ بنت الحارث ۔
(زاي) = زينب بنت جحش + زينب بنت خزيمہ ۔
صخرٌ
(صاد) = صفیہ بنت حُیّی بن اخطب ۔
(خاء) = خديجہ بنت خويلد ۔
(راء) = أمُّ حبيبہ رملہ بنت ابو سفيان ۔
سمعه
(سين) = سودة بنت زمعہ ۔
(ميم) = ميمونہ بنت الحارث ۔
(عين) = عائشہ بنت ابو بكر ۔
(هاء) = ام سلمہ هند بنت ابو امیہ ۔
خديجہ
نبی ﷺ کی سب سے پہلی بیوی خدیجہ بنت خویلد قرشیہ اسدیہ ہیں، آپ نے ان سے نبوت کے قبل شادی کی تھی جب ان کی عمر چالیس سال تھی، اور ان کی زندگی میں کسی اور سےشادی نہیں کی، آپ کی سبھی اولاد سوائے ابراہیم کے انہیں کے بطن سے ہوئی، یہ وہ عظیم خاتون ہیں کہ جس نے آپ کو نبوت ملنے پر آپ کی بڑی مدد کی اور آپ کے ہر سُکھ دُکھ میں شریک رہیں اور اپنی جان ومال آپ پر قربان کردیا، اللہ تعالیٰ نےجبریل کے ہاتھوں آپ کو سلام بھیجا، اور یہ ایسی خصوصیت ہے جو آپ کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں ہوئی، اور ہجرت کے تین سال قبل آپ کی وفات ہوئی، ۔
سودہ
نبی ﷺ نے خدیجہ کی وفات کے چند دنوں بعد سودہ بنت زمعہ قرشیہ سے شادی کی، یہی وہ خاتون ہیں جنہوں نے اپنا دن عائشہ کو ہدیہ کر دیا تھا۔
عائشہ
ان کے بعد نبی ﷺ نے ام عبد اللہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق سے شادی کی، جن کی براءت ساتوں آسمان کے اوپر سے نازل ہوئی، جو نبی ﷺ کو نہایت پسند اور آپ کی چہیتی تھیں، ان سے نکاح سے قبل ہی فرشتوں نے انہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں لپیٹ کر نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا تھا اور کہا تھا: ’’یہ آپ کی بیوی ہیں‘‘ آپ نے ان سے شوال میں شادی کی جب ان کی عمر چھ سال تھی، اورہجرت کے پہلے سال شوال میں ان سے بناء (رخصتی) کیا جب ان کی عمر نو سال تھی، ان کے علاوہ کسی اور کنواری لڑکی سے آپ نے شادی نہیں کی، ان کے علاوہ کسی اور بیوی کے لحاف میں رہتے ہوئے آپ پر وحی نہیں نازل ہوتی تھی، آپ نبی ﷺ کے نزدیک سب سے محبوب تھیں، آپ کی پاکدامنی آسمان سے نازل ہوئی، اور امت کا اتفاق ہے کہ اب آپ پر زنا کی بہتان تراشی کرنے والا کافر ہے، آپ نبی ﷺ کی بیویوں میں سب سے بڑی فقیہہ اور عالمہ ہیں، بلکہ مطلقا آپ اس امت کی عورتوں میں سب سےبڑی فقیہہ اور عالمہ ہیں، آپ سے اکابرین صحابہ فتوی پوچھتے اور آپ کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔
حفصہ
پھر آپ نے حفصہ بنت عمر بن خطاب سے شادی کی، وہ اپنے پہلے شوہر حذافہ سہمی کے ساتھ ہی اسلام قبول کر چکی تھیں اور ان کے ساتھ ہی مدینہ کی طرف ہجرت کیا تھا، پھر جب غزوہ احد کے بعد ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا تو نبی ﷺ نے ان سے شادی فرمائی۔
زينب بنت خُزيمہ
پھر ان کے بعد آپ نے زینب بنت خزیمہ بن حارث قیسیہ سے شادی کی جو بنو ہلال بن عامر قبیلے سے تھیں، آپ ﷺ سے شادی کے دو مہینے بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا، اور یہی آپ کی وہ بیوی ہیں جن کا لقب ام المساکین تھا۔
ام سلمہ
پھر نبی ﷺ نے ام سلمہ ہند بنت ابو امیہ قرشیہ مخزومیہ سے شادی کی، اور ابو امیہ کا نام: حذیفہ بن مغیرہ تھا، یہ آپ کی بیویوں میں سے سب سے اخیر میں وفات پانے والی ہیں، ان کی وفات ۶۲ھ میں ہوئی۔
جويريہ
نبی ﷺ نے جویریہ بنت حارث بن ابو ضرار مصطلقیہ سے شادی کی، یہ بنو مصطلق کی قیدیوں میں سے تھیں، تو یہ نبی ﷺ کے پاس اپنی مکاتبت پر مدد مانگنے کے لیے آئیں، تو نبی ﷺ نے ان کا مکاتبہ (ان کی آزادی کے لیے مقرر کی گئی رقم) اپنی طرف سے ادا کر دیا اور ان سے شادی کر لی۔
زينب بنت جحش
پھر ان کے بعد نبی ﷺ نے بنو اسد بن خزیمہ سے تعلق رکھنے والی زینب بنت جحش سے شادی فرمائی، یہ آپ کی پھوپھی امیمہ کی بیٹی تھیں، اور انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا تھا: (جب زید نے ان سے اپنی ضرورت پوری کر لی تو ہم نے ان کو آپ کی زوجیت میں دے دیا) [احزاب: ۳۷]، اور اس کے ذریعہ وہ نبی ﷺ کی بقیہ بیویوں پر فخر کیا کرتی تھیں اور کہتی تھیں: ’’تمہاری شادی تمہارے گھر والوں نے کروائی جبکہ میری شادی اللہ تعالیٰ نے ساتوں آسمان کے اوپر سے کروائی‘‘۔
آپ کی خاصیتوں میں سے یہ ہے کہ اللہ ´ ہی آپ کے نکاح کے ولی تھے جس نے آپ کی شادی ساتوں آسمان کے اوپر سے اپنے رسول سے کروائی، ان کا انتقال حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دور میں ہوا، پہلے وہ زید بن حارثہ کے عقد میں تھیں جن کو نبی ﷺ نے اپنا منھ بولا بیٹا بنا لیا تھا، جب زید نے ان کو طلاق دے دی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی شادی ان سے کروا دی تاکہ امت کے
لیے اپنے منھ بولے بیٹے کی بیویوں سے شادی کرنے کی ایک مثال قائم ہو جائے۔
ام حبیبہ
پھر ان کے بعد آپ نے ام حبیبہ سے شادی کی، ان کا نام رملہ بنت ابو سفیان صخر بن حرب قرشیہ امویہ تھا، نبی ﷺ نے جب ان سے شادی کی تو یہ حبشہ کے ملک میں مہاجرہ تھیں، اور نجاشی نے ان کا مہر اپنی طرف سے چار سو دینار اد اکیا تھا، پھر وہ وہاں سے نبی ﷺ کے پاس لائی گئیں، اور ان کا انتقال ان کے بھائی معاویہ کے عہد حکومت میں ہوا۔
صفیہ
ان کے بعد نبی ﷺ نے صفیہ بنت حیی بن اخطب سے شادی کی، آپ قبیلہ بنو نضیر، جو موسی کے بھائی ہارون کی اولاد میں سے تھے ان کے سردار کی بیٹی تھیں، تو اس لحاظ سے آپ ایک نبی کی بیٹی اور ایک دوسرے نبی کی بیوی ہوئیں، آپ دنیا کی سب سے خوبصورت عورتوں میں سے تھیں، یہ قید ہو کر آپ کے حصے میں آئی تھیں تو آپ نے انہیں آزاد کر دیا اور ان کی آزادی کو ہی مہر
بنا دیا،اور پھر یہ سنت چل پڑی۔
ميمونہ
پھر نبی ﷺ نے میمونہ بنت حارث ہلالیہ سے شادی فرمائی، یہ سب سے آخری خاتون ہیں جن سے آپ ﷺ سے شادی کی، عمرۂ قضا سے فارغ ہونے کے بعد نبی ﷺ نے ان سے مکہ میں شادی کی تھی۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی تو آپ کے پاس نو بیویاں تھی، اور آپ کی وفات کے بعد سب سے پہلے وفات پانے والی زینب بنت جحش تھیں جن کا انتقال بیس ہجری میں ہوا، اور سب سے اخیر میں وفات پانے والی ام سلمہ ہیں جن کی وفات یزید بن معاویہ کے عہد حکومت میں سن باسٹھ (۶۲) ہجر ی میں ہوئی۔