دسویں ناجائز:
اللہ کے دین سے مکمل طور پر نظر انداز کرنا یا اس سے دور ہونا ، نہ اسے سیکھنا اور نہ اس پر عمل کرنا۔ اور اس کا ثبوت اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے کہ: " اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی گئی مگر پھر بھی اس نے اعراض کیا یقیناً ہم ایسے مجرموں سے انتقام لے کر رہیں گے " [32:22]
اللہ کے دین سے دور ہونا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ جس کے لیے بھلائی چاہتا ہے ، اللہ اسے دین (یعنی اسلام) کو سمجھنے پر مجبور کرتا ہے"۔ اور جس کے لیے اللہ (۵) بھلائی نہیں چاہتا ، اللہ اسے دور کر دیتا ہے اور وہ اللہ کا دین سیکھنے سے غافل ہو جاتا ہے۔ اللہ () فرماتا ہے: "اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی گئی مگر پھر بھی اس نے اعراض کیا یقیناً ہم ایسے مجرموں سے انتقام لے کر رہیں گے " [32:22] اور مجرمین (مجرم ، کافر ، مشرک ، گنہگار ، مسترد کرنے والے وغیرہ) جہنم کے باشندے ہیں اور ہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں۔
اسلام سے دور ہونے والے کا حکم:
اگر کوئی اپنے کان اور دل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھیرے اور اس پر ایمان نہ لائے اور نہ اس کا انکار کرے اور نہ اپنی وفاداری ظاہر کرے اور نہ ہی دشمنی کا مظاہرہ کرے اور وہ اس بات کی کوئی پرواہ نہ کرے کہ رسول اللہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ بالکل ساتھ آیا ، پھر اس کا حکم یہ ہے کہ وہ کافر ہے اور ان کا کفر کفر الکبر (بڑا کفر) میں آتا ہے اور اس طرح یہ انہیں اسلام کے دائرے سے نکال دیتا ہے۔