شفاعت کی قسمیں:
غیر ثابت شدہ شفاعت: وہ ہے جس کو قرآن نے ناجائز قرار دیا ہےجیسے کہ غیر اللہ سے ایسی چیزوں میں شفاعت طلب کرنا، جس پر صرف اللہ ہی قادر ہے۔
اس کا حکم: یہ شرک اکبر ہے۔
ان چیزوں میں شفاعت کرنا جن پر مخلوق قادر ہو۔
اس کی یہ چار شرطیں ہے:
1- حاضر ہونا۔ 2- زندہ ہونا۔
3- قادر ہونا۔ 4-سبب ماننا۔
ثابت شدہ شفاعت: جو صرف اللہ سے طلب کی جائے اور اس کی یہ شرطیں ہیں:
(1) شفاعت کے لیے اللہ کی اجازت ہو۔
(2) شفاعت کرنے والے (3)اور جس کی شفاعت کی
جارہی ہے دونوں سے اللہ راضی ہو
نبی ﷺ کےلیے خاص شفاعت، جس میں کسی کی مشارکت نہیں ہوگی
- شفاعت عظمی
- آپ ﷺ کی اپنے چچا ابوطالب کےلیے عذاب ہلکا کرنے کی شفاعت
- جنت کا دروازہ کھولنے کی شفاعت
عام شفاعت جو تمام انبیا ء و رسل ،فرشتوں ، موحدین اور نابالغ بچوں کے لیے ہوگی
- موحدین کے حق میں رفع درجات کی شفاعت
- موحدین میں سے مستحقین عذاب کے لیے جہنم میں داخل نہ کرنے کی شفاعت
- جہنم میں داخل ہوچکے موحدین کوجہنم سے باہر نکالنے کی شفاعت
ناجائز شفاعت: وہ ہے جس کو قرآن نے ناجائز قرار دیا ہےجیسے کہ غیر اللہ سے ایسی چیزوں میں شفاعت طلب کرنا، جس پر صرف اللہ ہی قادر ہے، اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: (اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی اور شفاعت، اورکافر ہی ظالم ہیں)۔
جائز شفاعت: جو اللہ سے طلب کی جائے اور شفاعت کرنے والےکو شفاعت کی اجازت دے کر تکریم کی جائےگی، اور جس کی شفاعت کی جائے (یہ وہ ہوں گے): جن کے قول و عمل سے اللہ راضی ہو، جیسا کہ اللہ ´ کا فرمان ہے:(کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کر سکے)۔
يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا أَنفِقوا مِمّا رَزَقناكُم مِن قَبلِ أَن يَأتِيَ يَومٌ لا بَيعٌ فيهِ وَلا خُلَّةٌ وَلا شَفاعَةٌ ۗ وَالكافِرونَ هُمُ الظّالِمونَ
اے اہل ایمان ! خرچ کرو اس میں سے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس سے پہلے کہ وہ دن آدھمکے جس میں نہ کوئی خریدو فروخت ہوگی نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ کوئی شفاعت مفید ہوگی اور جو انکار کرنے والے ہیں وہی تو ظالم ہیں
- Quran Surah Baqarah [2:254]