چوتھا دن - فتنوں کے زمانے میں بنی نوع انسان۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ صبر کو علمی مشورے سے لازمی سمجھا جاتا ہے
۔
اور جب آزمایا جاتا ہے تو صبر کرتے ہیں اور جب وہ گناہ کرتے ہیں تو توبہ کرتے ہیں۔
مصیبت و پریشانی کے وقت لوگوں کے چار حالات ہوتے ہیں:
شکر اداکرنے والے
راضیرہنے والے
صبر کرنے والے
ناراض ہونے والے
- 1.ناراضگی: حرام ہے، اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اور یہ ان چیزوں کے ذریعہ ہوتا ہے:
دل سے
زبان سے
اعضاء وجوارح سے
دل
دل سے ناراضگی کا اظہار کرنا: علامہ ابن القیم کے قول کا مفہوم یہ ہے کہ بعض لوگ زبان سے کہنے کی جسارت تو نہیں کرتے ہیں لیکن وہ نفس اور دل سے اپنے رب سے بد گمان ہوتے ہیں اور دل ہی دل میں کہتے ہیں کہ : میرے رب نے مجھ پر ظلم کیا، میرے رب نےمجھےمحروم کر دیا وغیرہ وغیرہ، اور یہ صفت کچھ لوگوں کے اندر کم ہوتی ہے تو کچھ کے اندر زیادہ، لہذا آپ اپنے نفس کا جائزہ لیں اگر آپ کا دل اسسےپاک ہے تو باعث نجات ہے ورنہ لائق عذاب ہے۔
زبان
زبان سے ناراضگی کا اظہار کرنا: اور یہ ان چیزوں کے ذریعہ ہوتا ہے: چیخ و پکار کرنا، نوحہ خوانی کرنا، اپنے اوپر بربادی کی بد دعا، سب و شتم (گالی گلوچ) اور لعن طعن کرنا۔
اعضاء و جوارح سے ناراضگی کا اظہارکرنا: اور یہ ان چیزوں کے ذریعہ ہوتا ہے: خود کا رخسار پیٹنا، گریبان پھاڑنا، اور بالوں کو نوچنا۔
2- صبر: اس کے واجب ہونے پر امت کا اجماع ہے اور یہ بھی واجب ہے کہ دل وزبان اور اعضاء جوارح سے صبر کرے، امام احمد فرماتے ہیں کہ: قرآن مجید میں صبر کا ذکر تقریبا نوے (90) جگہ پر آیا ہے اور اس کے واجب ہونے پر امت کا اتفاق ہے، اور یہ آدھا ایمان ہے، کیونکہ ایمان کے دو حصے ہیں: آدھا صبر اور آدھا شکر۔ (مدارج السالکین از ابن القیم)۔
3- راضی ہونا: اور یہ مستحب ہے، اور یہ صبر سے بھی اعلی مرتبہ ہے۔
4- شکر ادا کرنا: یہ مستحب ہے، اور یہ سب سے افضل و اعلی مرتبہ ہے۔