پہلا اصول
جان لیں! -اللہ اپنی اطاعت کی جانب آپ کی رہنمائی فرمائے- حنیفیت اور ملت ابراہیم یہ ہے کہ: آپ دین کو خالص کرتے ہوئے ایک اللہ کی عبادت کریں، اللہ تعالی نے تمام مخلوق کو اسی عبادت کا حکم دیا ہے، اور اسی کے لئے سب کو پیدا کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے﴾(میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لئے پیدا کیا ہے، کہ وہ صرف میری عبادت کریں)(1).
اس آیت کریمہ کی روشنی میں جب آپ کو یہ معلوم ہو گیا کہ اللہ ´نے آپ کو صرف اپنی ہی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے تو جان لیں کہ توحید خالص کے بغیر کوئی بھی عبادت، عبادت نہیں ہو سکتی ، جیسے کہ کوئی نماز بغیر طہارت ووضو کے نماز نہیں ہو سکتی، لہذا جب کسی عبادت میں شرک کی آمیزش ہو جاتی ہے تو وہ اسے فاسد کر دیتا ہے، ٹھیک ایسے ہی جیسے حدث سے طہارت ختم ہو جاتی ہے، اب جب آپ پر یہ بات واضح ہو گئی کہ شرک جب عبادت کے ساتھ خلط ملط ہو جائے تو اسے فاسد اور اعمال کو برباد کر دیتا ہے، اور شرک کرنے والے کو دائمی جہنمی بنا دیتا ہے، تو آپ کو پتہ چل گیا ہو گا کہ توحید کا جاننا اور شرک کے فساد سے باخبر رہنا کتنا اہم ہے، امید ہےکہ اللہ تعالیٰ آپ کو شرک کے اس جال سے محفوظ رکھے، جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے:(یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا، اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دے)۔
اور شرک سے بچنے کے لیے ان چار قاعدوں کا جاننا ضروری جن کا ذکر اللہ نے قرآن مجید میں کیا ہے۔
پہلا قاعدہ: آپ جان لیں کہ وہ کفار جن سے رسول اللہ ﷺ نے جنگ کی اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق و مدبر ہے، لیکن یہ اقرار انہیں اسلام میں داخل نہیں کر سکا، جس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: (آپ کہیئے کہ وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہچاتا ہے یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے، اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے، اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وہ یہی کہیں گے کہ ”اللہ“ تو ان سے کہیئے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے)۔(2).
(اے نبی ! ان سے) قُل مَن يَرزُقُكُم مِنَ السَّماءِ وَالأَرضِ أَمَّن يَملِكُ السَّمعَ وَالأَبصارَ وَمَن يُخرِجُ الحَيَّ مِنَ المَيِّتِ وَيُخرِجُ المَيِّتَ مِنَ الحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ الأَمرَ ۚ فَسَيَقولونَ اللَّهُ ۚ فَقُل أَفَلا تَتَّقونَ
پوچھئے کہ کون ہے جو تمہیں رزق پہنچاتا ہے آسمان اور زمین سے یا کون ہے جس کے قبضۂ قدرت میں ہیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں ؟ اور کون ہے جو نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے اور کون ہے تدبیرِ اَمر کرنے والا ؟ تو وہ کہیں گے اللہ ! تو آپ ﷺ فرمائیے کہ کیا پھر تم (اس اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ - Quran سورہ یونس [10:31]