دوسرا اصول
دوسرا قاعدہ: وہ لوگ (کفار و مشرکین) کہتے تھے کہ ہم جو ان (غیر اللہ) کو پکارتے ہیں اور ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اس کا مقصد صرف شفاعت اور تقرب الٰہی کا حصول ہے۔
قربت کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:(اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں [اور کہتےہیں] کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتےہیں کہ یہ [بزرگ] اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں، یہ لوگ جس کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا [سچا] فیصلہ اللہ [خود] کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے [لوگوں] کو اللہ تعالیٰ راہ نہیں دکھاتا۔(1).
اور شفاعت کی دلیل یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:(اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں)۔
اور شفاعت کی دو قسمیں ہیں: ناجائز شفاعت اور جائز شفاعت۔(2).
أَلا لِلَّهِ الدّينُ الخالِصُ ۚ وَالَّذينَ اتَّخَذوا مِن دونِهِ أَولِياءَ ما نَعبُدُهُم إِلّا لِيُقَرِّبونا إِلَى اللَّهِ زُلفىٰ إِنَّ اللَّهَ يَحكُمُ بَينَهُم في ما هُم فيهِ يَختَلِفونَ ۗ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدي مَن هُوَ كاذِبٌ كَفّارٌ
آگاہ ہو جائو کہ اطاعت ِخالص اللہ ہی کا حق ہے۔ اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا کچھ اور کو اولیاء بنا یا ہوا ہے (وہ کہتے ہیں کہ) ہم تو ان کو صرف اس لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں یقینا اللہ فیصلہ کر دے گا ان کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اللہ ہرگز ہدایت نہیں دیتا جھوٹے اور نا شکرے لوگوں کو۔
- Quran Surah Al Zumar [39:3]
وَيَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُم وَلا يَنفَعُهُم وَيَقولونَ هٰؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِندَ اللَّهِ ۚ قُل أَتُنَبِّئونَ اللَّهَ بِما لا يَعلَمُ فِي السَّماواتِ وَلا فِي الأَرضِ ۚ سُبحانَهُ وَتَعالىٰ عَمّا يُشرِكونَ
اور یہ لوگ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا یسی چیزوں کی جو نہ انہیں کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع دے سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے ہاں۔ آپ ﷺ کہیے کہ کیا تم اللہ کو بتانا چاہتے ہو وہ شے جو وہ نہیں جانتا نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ؟ وہ بہت پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
-Quran سورہ یونس [10:18]