Urdu flag
Urdu
زبان منتخب کریں
Urdu flag
Urdu
Arabic flag
Arabic
English flag
English
French flag
French
German flag
German
Indonesian flag
Indonesian
Persian flag
Persian
Russian flag
Russian
Spanish flag
Spanish
Urdu icon Urdu
مختصر سیرت وشمائل نبی ﷺ 

چوتھا باب:عہد مدنی3

تعلیم کا دورانیہ
7 منٹ

غزوۂ بنو قینقاع

ہجرت کے تیسرے سال بنو قینقاع نے نقض عہد کیا، تو نبی ﷺ نے پندرہ راتوں تک ان کا محاصرہ کیا پھر وہ آپ کے حکم پر اترے تو آپ نے انہیں چھوڑ دیا جن کی تعداد سات سو تھی۔

غزوۂ احد

شوال میں غزوۂ احد پیش آیا، جب قریش ’ بدر‘  کا بدلہ لینے کے لیے  تین ہزار کی تعداد میں نکلے اور مدینہ پہنچے، تو نبی ﷺ تقریبا سات سو کی تعداد میں صحابہ ﷡ کے ساتھ نکلے، جبکہ منافقین ساتھ چھوڑ کر نکل گیے۔

دن کے شروعاتی حصے میں گیند مسلمانوں کے پالے میں رہی، پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آزمایا اور گیند مشرکوں کے پالے میں چلی گئی یہاں تک کہ وہ لوگ رسول اللہﷺ تک پہنچ گئے اور آپ کو زخمی کر دیا اور آپ کے سامنے کے دانت بھی شہید کر دیے، اور اس دن آپ ﷺ کے ساتھ فرشتوں  نے بھی جنگ لڑی، اور ستر صحابہ کرام ﷡ شہید ہوئے جن میں حمزہ بن عبد المطلب، مصعب بن عمیر، انس بن نضر اور غسیل ملائکہ حنظلہ  ﷡ وغیرہ تھے۔

اس دن طلحہ بن عبید اللہ کی بڑی اچھی آزمائش ہوئی  یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’آج طلحہ نے اپنے اوپر واجب کر لیا‘‘،رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے پہاڑ میں پناہ لی، اور اللہ تعالیٰ نے مشرکوں سے آپ لوگوں کی حفاظت فرمائی۔

غزوۂ احد کا دن مسلمانوں کے لیے بلاء وآزمائش کا دن تھا، اللہ تعالیٰ نے اس دن مومنوں کا امتحان لیا، اور منافقوں کی فضیحت کی، اور جسے چاہا انہیں منصب شہادت سے سرفراز فرمایا۔

غزوہ کے بعد نبی ﷺ نے سنا کہ قریش دوبارہ اس ارادہ سے نکلے ہیں کہ مسلمانوں کا قلع قمع کر دیں، تو  زخم خوردہ ہونے کے باوجود آپ مومنوں کے ہمراہ دفاع کے لیے نکلے، مسلمان جب حمراء الاسد پہنچے اور یہ خبر قریش کو پہنچی تو انہوں نے پسپائی اختیار  کی اور مکہ لوٹ گئے۔

سَن چار ہجری

ہجرت کے چوتھے سال بئر معونہ کا واقعہ پیش آیا جس میں ستر قراء صحابہ کرام ﷡ مارے گئے، اور اسی سال غزوۂ بنی نضیر بھی پیش آیا جن کا نبی ﷺ نے محاصرہ کیا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، نبی ﷺ نے انہیں مدینہ سے نکال باہر کیا، اور انہیں کے بارے میں سورۂ حشر نازل ہوئی۔

غزوۂ مریسیع

سَن پانچ ہجری میں نبی ﷺ بنو مصطلق سے جنگ کے لیے نکلے اور کامیاب ہو کر لوٹے، اسی راستے میں تیمم مشروع ہوا، اور حادثۂ افک پیش آیا جہاں ام المومنین عائشہ صدیقہ ﷞ پر منافقوں نے تہمت لگائی جبکہ وہ عفیفہ اور مطہرہ ( پاک کی ہوئی)  تھیں، یہ معاملہ ان کے لیے اور رسول اللہ ﷺ کے لیے بڑا سخت تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں ان کی براءت نازل فرمائی اور تہمت لگانےوالوں کو کوڑے لگائے گئے۔

غزوۂ احزاب

شوال سَن پانچ ہجری میں غزوۂ خندق  (احزاب) پیش آیا، جب یہودیوں نے قریش اور ان کے حلفاء کے ساتھ مل کر نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ﷡ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، اس طرح قریش، بنو سلیم، بنو اسد، فزارہ اور اشجع وغیرہ مل کر دس ہزار کی تعداد میں مدینہ پہنچے۔

حضرت سلمان فارسی ﷜ نے نبی ﷺ کو خندق کھودنے کا مشورہ دیا تاکہ اس احزاب (گروہ) سے مسلمانوں کی حفاظت ہو، نبی ﷺ تین ہزار کی تعداد میں نکلے اور جبل سلع کو اپنے  پیچھے قلعہ کے مانند رکھا اور خندق کو اپنے سامنے رکھا، آپ اپنے حلیف بنو قریظہ کی طرف سے خود کو مامون سمجھ رہے تھے مگر انہوں نے عہد میں خیانت کی اور وہ لوگ مخالفین احزاب کے ساتھ مل گئے، تو نبی ﷺ نے نُعَیم بن مسعود ﷜ کو ان کے اور احزاب کے خلاف استعمال کرکے اور تدبیر لگا کر دونوں کے بیچ ناچاقی پیدا کر دی، پھر اللہ تعالیٰ نے احزاب پر لشکر کی شکل  میں ہوا بھیجا جس نے ان کے خیمے اڑا ڈالے اور ہانڈیاں الٹ دی، طوفان نے ان کا ارادہ متزلزل کر دیا ،ان کے دلوں میں رعب بیٹھ گیا اور وہ رسوا ہوئے، بالآخر چالبازی کی ناکامی کے ساتھ وہ لوگ واپس لوٹے۔

اور نبی ﷺ بنو قریظہ کے پاس آئے اور ان کا حَکم اور فیصل سعد بن معاذ ﷜ کو بنایا۔

اسی غزوہ کے سلسلے میں سورۂ احزاب نازل ہوئی۔

صلح حدیبیہ

سَن چھ ہجری میں نبی ﷺ چودہ سو صحابہ کرام ﷡ کے ہمراہ عمرہ کے ارادہ سے نکلے، جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے مکہ میں داخلے سے روک دیا، اور اس بات پر مصالحت کی کہ دس سال تک ان کے بیچ کوئی لڑائی نہیں ہوگی، یہ مومنوں کے لیے فتح کی نوید تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (بیشک (اے نبی!) ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے) [الفتح: ۱]۔

جن شرطوں پر صلح ہوئی تھی ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ قریش اگلے سال مومنوں کو عمرہ کے لیے مکہ میں داخلہ کی اجازت دیں گے، اس طرح ذو القعدہ سَن سات ہجری میں عمرۂ قضا ادا کیا گیا۔

غزوۂ خیبر

حدیبیہ سے لوٹنے کے بیس دن کے بعد نبی ﷺ شمال مدینہ خیبر کی طرف نکلے اور تقریبا بیس راتوں تک یہودیوں کا محاصرہ کیے رکھا اس دوران مسلمانوں کو بڑی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا، یہودیوں کو جب اپنی ہلاکت کا یقین ہو گیا تو انہوں نے نبی ﷺ سے صلح کا سوال کیا تو آپ نے ان کی جان کی ضمانت دیتے ہوئے اس بات پر صلح کی کہ  اپنے جسم پر پہنے ہوئے لباس کے  سوا کچھ  اور نہ لیتے ہوئے  باہر نکل جائیں، پھر نبی ﷺ نے زمین کی پیداوار کے نصف حصہ کے عوض ان سے معاہدہ کیا۔

تحریری سبق 21/26
آپ دیکھ رہے ہیں
چوتھا باب:عہد مدنی3