Urdu flag
Urdu
زبان منتخب کریں
Urdu flag
Urdu
Arabic flag
Arabic
English flag
English
French flag
French
German flag
German
Indonesian flag
Indonesian
Persian flag
Persian
Russian flag
Russian
Spanish flag
Spanish
Urdu icon Urdu
مختصر سیرت وشمائل نبی ﷺ 

چوتھا باب:عہد مدنی5

تعلیم کا دورانیہ
4 منٹ

غزوۂ تبوک

اس غزوہ میں نبی ﷺ نے ایلہ کے باسیوں سے جزیہ پر مصالحت کی، اسی طرح اہل  جربا اور اذرح سے بھی، اور انہیں پروانہ لکھ کر دیا، اسی طرح  دومہ کے بادشاہ اکیدر سے بھی جزیہ  ادا کرنے پر مصالحت کی، تبوک میں نبی ﷺ نے دس سے کچھ زائد راتوں تک قیام کیا پھر بغیر جنگ کے ہی مدینہ لوٹ آئے۔

جب آپ مدینہ لوٹے تو اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی بنائی ہوئی مسجد ضرار کو منہدم کر دینے کا  حکم دیا، جو بنائی گئی تھی (ضرر پہنچانے، کفر کی باتیں کرنے، ایمانداروں میں تفریق ڈالنے اور اس شخص کے قیام کا سامان کرنے کی خاطر جو اس سے پہلے اللہ اور اسکے رسول کا مخالف ہے) [توبہ: ۱۰۷] چنانچہ یہ مسجد بحکم نبی ﷺ منہدم کر دی گئی، اور یہ آخری غزوہ تھا جس میں نبی ﷺ بنفس نفیس شریک ہوئے۔

وفود کا آنا

غزوۂ تبوک کے بعد ثقیف نے اسلام قبول کیا، اور سَن نو ہجری کا نام ہی ’’وفود کا سال‘‘ پڑ گیا، کیونکہ  قبائل مسلمان ہو کر جوق در جوق نبی ﷺ کے پاس آنے لگے، ان میں سے بنو تمیم کا وفد تھا جس کے سردار عطارد بن حاجب تمیمی تھے، اور طی کا وفدتھا  جس کے سردار زید الخیل تھے، اور عبد القیس کا وفد تھا جس کے سردار جارود العبدی تھے، اور بنو حنیفہ کا وفد تھا جس میں وہ مسیلمہ کذاب بھی  تھا جس نے بعد میں چل کر نبوت کا جھوٹا دعوی کیا تھا۔

ابو بکر ﷜ کا حج

سَن نو ہجری میں نبی ﷺ نے ابو بکر ﷜ کو امیر حج بنا کر بھیجا، تو انہوں نے لوگوں کے ہمراہ (بحیثیت امیر) حج ادا کیا، اور حضرت علی ﷜ کو بھیجا جو  لوگوں کے سامنے سورۂ توبہ کی ابتدائی آیات پڑھ رہے تھے اور مشرکین کا عہد و پیمان لوٹا رہے تھے، اور لوگوں میں یہ منادی کر دی کہ اس سال کے بعد اب کوئی مشرک یا ننگا شخص  بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتا جیسا وہ زمانۂ جاہلیت میں کرتے تھے۔

حجۃ الوداع

سَن دس ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع انجام دیا، اور آپ کے ساتھ مختلف قبیلوں اور شہروں کے لوگ نکلے یہاں تک کہ ان کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی، چنانچہ نبی ﷺ نے انہیں مناسک حج سکھائے اور عرفہ کے دن خطبہ دیا اور یہ آیت تلاوت فرمائی: (آج میں نے تمہارے لیے تمہارا  دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا) [مائدہ: ۳]، تو آپ نے انہیں بتایا کہ دین مکمل ہو چکا، اور انہیں کتاب وسنت کو لازم پکڑنے کی وصیت کی، اور ایک دوسرے پر ایک دوسرے کی جان، مال اور عزت کو حرام قرار دیا، گویا یہ آپ ﷺ کا الوداعی خطبہ تھا۔

اسامہ کو بھیجنا

سَن گیارہ ہجری کے ماہ صفر میں نبی ﷺ نے روم سے لڑنے کے واسطے ایک لشکر تیار کیا جس کا امیر اسامہ بن زید ﷟ کو مقرر کیا، تو وہ نکلے اور لشکر نے جب جرف میں پڑاؤ ڈالا تو انہیں نبی ﷺ کی بیماری کی خبر ملی۔

تحریری سبق 23/26
آپ دیکھ رہے ہیں
چوتھا باب:عہد مدنی5