Urdu flag
Urdu
زبان منتخب کریں
Urdu flag
Urdu
Arabic flag
Arabic
English flag
English
French flag
French
German flag
German
Indonesian flag
Indonesian
Persian flag
Persian
Russian flag
Russian
Spanish flag
Spanish
Urdu icon Urdu
مختصر سیرت وشمائل نبی ﷺ 

تیسرا باب: عہد مکی

تعلیم کا دورانیہ
6 منٹ

نبی ﷺ اور صحابہ کرام ﷡ کو مشرکین کا اذیت دینا

مشرکین نے جب نبی ﷺ کی دعوت کی سچائی اور آپ کے ارد گرد لوگوں کو اکٹھا ہوتے دیکھا تو آپ کو بڑی سخت اذیتیں دینے لگے، اور ان کی طرف سے ملنے والی اذیتوں کی چند شکلیں مندرجہ ذیل ہیں:

  • آپ کے تعلق سے یہ جھوٹ پھیلانا کہ آپ جادوگر ہیں تاکہ لوگ آپ سے ڈریں اور نفرت کریں۔
  • آپ کے تعلق سے یہ جھوٹ پھیلانا کہ آپ دیوانہ ہیں تاکہ لوگ آپ کو بے وقوف سمجھیں۔
  • آپ کے تعلق سے یہ جھوٹ پھیلانا کہ آپ جھوٹے ہیں، اور اس کا رد اس بات سے ہو جاتا ہے کہ آپ ان کے مابین اپنی سچائی اور امانت داری کی وجہ سے ’’امین‘‘  مشہور تھے۔
  • آپ ﷺ کا اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کا مذاق اڑانا۔
  • جب نبی ﷺ کسی کو دعوت دینے کے لیے جاتے تو ہنگامہ اور شور شرابہ کرتے تاکہ لوگ وحی کو اور جو حق (دین) لے کر آپ آئے ہیں اس کو نہ سن سکیں۔
  • بیرونی لوگوں کا عمرہ یا حج  وغیرہ کے لیے مکہ آنے پر استقبال کرنا اور ان کو نبی ﷺ سے خوف زدہ کرنا۔
  • آپ ﷺ کو  جسمانی اذیت دینا، جیسا عقبہ بن ابی معیط نے کیا تھا کہ ایک دفعہ آپ کو کپڑے سے پکڑ کر اس زور سے کھینچا کہ لگا آپ کو پھانسی لگا کر مار دے گا یہاں تک کہ ابو بکر ﷜ نے اسے دور کیا، اور اسی طرح آپ کے جسم مبارک پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی گئی جسے آپ کی بیٹی فاطمہ ﷞ نے دور کیا تھا۔
  • آپ کو قتل کرنے کے درپے ہونا  جیساکہ انہوں نے آپ کے چچا ابو طالب کو یہ پیشکش دی تھی کہ وہ آپ کے بدلے عمارہ بن ولید کو دے کر آپ ﷺکو قتل کردیں، اسی طرح ہجرت کے وقت بھی آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔
  • کمزور مومنوں کو ستانا اور انہیں سخت اذیتیں دینا جیسے وہ لوگ حضرت بلال ﷜ کے پیٹ پر پتھر رکھ دیا کرتے تھے، اور جیسا  کہ انہوں نے آل عمار بن یاسر ﷡ اور ان کے علاوہ دوسرے صحابہ ﷡ کے ساتھ کیا۔

حبشہ کی طرف ہجرت

جب مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو گئی اور کفار ان سے ڈرنے لگے تو ان کی اذیتیں اور مسلمانوں کی آزمائشیں مزید بڑھ گئیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: اس سرزمین  کا بادشاہ ایسا آدمی ہے کہ اس کے سامنے کسی پر ظلم نہیں کیا  جا  سکتا‘‘۔

حبشہ کی طرف ہجرت

پہلی ہجرت

پہلی ہجرت میں بارہ مرد اور چار عورتیں تھیں، جن میں عثمان بن عفان ﷜ بھی تھے آپ ﷜ اپنی بیوی رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سب سے پہلے نکلنے والے تھے، وہ لوگ حبشہ میں بہت سکون کے ساتھ رہے، پھر انہیں خبر پہنچی کہ قریش نے اسلام قبول کر لیا ہے جبکہ یہ خبر جھوٹی تھی، تو وہ لوگ مکہ لوٹے لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ معاملہ پہلے سے زیادہ سنگین ہو چکا ہے تو کچھ لوگ وہیں سے لوٹ گئے جبکہ ایک بڑی جماعت مکہ میں داخل ہوئی جن میں عبد اللہ بن مسعود ﷜ بھی تھے   ، انہیں قریش کی سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری ہجرت

حمزہ اور عمر ﷟  کا اسلام لانا

بعثت کے چھٹے سال حمزہ بن عبد المطلب ﷜ نے اسلام قبول کیا، آپ قریش کی بڑی طاقت ور شخصیت تھے تو اللہ نے انکے ذریعے نبی ﷺ کو قوت بخشی، پھر نبی ﷺ کی دعا کی برکت سے عمر بن خطاب ﷜ نے اسلام قبول  کیا جس سے مسلمان مضبوط ہوگئے اور قریش کی اذیتوں کا سلسلہ کم ہوگیا۔

ابو طالب کی گھاٹی میں

نبی ﷺ کے لیے قریش کی  اذیتوں میں اضافہ ہوتا گیا یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو  مع اہل خانہ ابو طالب کی گھاٹی میں محصور کر دیا، اسی گھاٹی میں عبد اللہ بن عباس ﷟ پیدا ہوئے،اور کفار کو نبی ﷺ سے بڑی تکلیف پہنچی، نبی ﷺ جب اس حصار سے نکلے تو آپ کی عمر ۴۹ سال ہو چکی تھی۔

ابو طالب اور خدیجہ ﷞ کی وفات

اس کے چند مہینوں بعد آپ کے چچا ابو طالب کی ستاسی (۸۷) سال کی عمر میں وفات ہو گئی، اور اس کے کچھ دنوں بعد ہی حضرت خدیجہ ﷞ کا بھی انتقال ہو گیا، تو اب کفار کی طرف سے آپ ﷺ کو ملنے والی اذیتیں مزید بڑھ گئیں۔

نبی ﷺ کا  سفر طائف

نبی ﷺ زید بن حارثہ ﷜ کے ہمراہ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے کے لیے طائف کے لیے نکلے، اوروہاں چند دنوں تک قیام کیا لیکن کسی نے بھی آپ کی دعوت قبول نہیں کی بلکہ آپ کو تکلیف دے کر وہاں سے نکال دیا، اور آپ پر پتھر برسائے یہاں تک کہ آپ کے ٹخنے خون آلود ہو گئے، تو رسول اللہ ﷺ وہاں سے لوٹ کر مکہ آئے، پھر مطعم  بن  عدی  کے عہد پر آپ مکہ میں داخل ہوئے۔

تحریری سبق 17/26
آپ دیکھ رہے ہیں
تیسرا باب: عہد مکی