<strong>جو سب سے پہلے<br>آپ پر نازل ہوا</strong><strong></strong>
سب سے پہلے آپ پر سورۂ علق کی یہ آیتیں نازل ہوئیں: اقرَأ بِاسمِ رَبِّكَ الَّذي خَلَقَ خَلَقَ الإِنسانَ مِن عَلَقٍ اقرَأ وَرَبُّكَ الأَكرَمُ الَّذي عَلَّمَ بِالقَلَمِ
(پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا، تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے، جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا، جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا)۔
دعوت کے مراتب
- [1] نبوت
[2] قریبی رشتہ داروں کو ڈرانا اور آگاہ کرنا
[3] اپنی قوم کو ڈرانا اور آگاہ کرنا
[4] ایسی قوم کو ڈرانا جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا تھا، اور اس سے مراد تمام عرب ہیں۔
[5] قیامت تک ان سبھی جن وانس کو ڈرانا اور آگاہ کرناجن تک آپ کی دعوت پہنچے۔
دعوت کے مراحل
[1] سرى دعوت: یہ ابتداء بعثت سے لے کر تین سال تک چلی۔
[2] جہری دعوت: جب آپ کو اس کا حکم دیا گیا: {ﱎ ﱏ ﱐ} [الحجر: ۹۴]
سب سے پہلے ایمان لانے والے
مردوں میں: ابو بکر صدیق ۔
عورتوں میں: خدیجہ بنت خویلد ۔
بچوں میں: علی بن ابی طالب ۔
آزاد کردہ غلاموں میں: زید بن حارثہ ۔
غلاموں میں: بلال بن رباح حبشی ۔
چند سابقین اولین
سب سے پہلے ایمان لانے والے کچھ لوگوں کا ذکر ہم کر چکے ہیں، ان کے علاوہ آپ ﷺ کے اہل بیت تھے، پھر ان کے بعد ایمان لانے والے کچھ لوگ یہ ہیں: عثمان بن عفان، طلحہ بن عبید اللہ، زبیر بن عوام، سعد بن ابی وقاص، عبد الرحمن بن عوف، خبّاب بن ارت، صہیب رومی، عمار بن یاسر ان کی ماں سمیہ، ابو عبیدہ عامر بن جراح، عثمان بن مظعون، ابو سلمہ بن عبد الاسد اور عتبہ بن غزوان اجمعین ۔