Urdu flag
Urdu
زبان منتخب کریں
Urdu flag
Urdu
Arabic flag
Arabic
English flag
English
French flag
French
German flag
German
Indonesian flag
Indonesian
Persian flag
Persian
Russian flag
Russian
Spanish flag
Spanish
Urdu icon Urdu
مختصر سیرت وشمائل نبی ﷺ 

دوسرا باب: وحی کی ابتدا

تعلیم کا دورانیہ
7 منٹ

جب نبی ﷺ کی عمر چالیس سال ہوئی  تو آپ کے اوپر نور نبوت چمکا، اور اللہ تعالیٰ نے سوموار کے دن آپ کو رسالت سے سرفراز فرمایا۔

آپ ﷺ کی نبوت

عائشہ ﷞ فرماتی ہیں: ’’نبی ﷺ کے وحی کی شروعات نیند میں سچے خوابوں سے ہوئی، آپ جب بھی کوئی خواب دیکھتے وہ روشن صبح کی طرح آپ کے سامنے آ جاتا، پھر آپ کو خلوت نشینی پسند ہو گئی، آپ غار حرا میں جا کر اکیلے کئی کئی راتوں تک عبادت کیا کرتے تھے ، پھر آپ خدیجہ ﷞ کے پاس آتے اور اسی کے مانند توشہ لے کر پھر لوٹ جاتے، آپ غار حرا میں تھے کہ اسی بیچ ایک فرشتہ آیا اور بولا: پڑھیے، آپ نے کہا: میں پڑھنا نہیں جانتا، آپ فرماتے ہیں: فرشتے نے مجھے زور سے بھینچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہونے لگی پھر  مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے، تو میں نے کہا: میں پڑھنا نہیں جانتا، تو فرشتے نے مجھے دوسری دفعہ پکڑ کر بھینچا یہاں تک مجھے تکلیف ہونے لگی پھر مجھے چھوڑ دیا، اور کہا: پڑھیے، تو میں نے کہا: میں پڑھنا نہیں جانتا، تو فرشتے نے مجھے تیسری دفعہ پکڑ کر زور سے بھینچا پھر چھوڑ دیا اور کہا:  ‘ٱقْرَأْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلَّذِى خَلَقَ خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ مِنْ عَلَقٍ ٱقْرَأْ وَرَبُّكَ ٱلْأَكْرَمُ [العلق](پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا، تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑا کرم والا ہے)، اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ لوٹے اور آپ کا دل کانپ رہا تھا، آپ خدیجہ بنت خویلد ﷞ کے پاس آئے اور کہا:مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھاؤ، تو انہوں نے آپ کو کمبل اوڑھایا یہاں تک کہ آپ کا خوف دور ہو گیا، تو آپ نے حضرت خدیجہ کو ساری خبر دی اور کہا: مجھے اپنی جان کا خوف ہو گیا ہے، تو خدیجہ ﷞ نے کہا: ہرگز نہیں اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ رشتہ داری نبھاتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، بے سہاروں کو سہارا دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، اور مصیبت زدہ کی مدد فرماتے ہیں، حضرت خدیجہ آپ کو لے کر اپنے چچیرے بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزی کے پاس  آئیں، زمانۂ جاہلیت میں وہ نصرانی ہو گئے تھے اور کتاب کو عبرانی میں لکھا کرتے تھے، یعنی جتنا اللہ چاہتا اتنا انجیل کو عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے، بڑھاپے کی وجہ سے وہ اندھے ہو گئے تھے،تو خدیجہ ﷞ نے  ان سے کہا: اے میرے چچیرے بھائی! ذرا اپنے بھتیجے کی بات سنیے، تو ورقہ نے آپ سے کہا: تم کیا دیکھتے ہو میرے بھتیجے؟ رسول اللہ ﷺ نے جو دیکھا تھا سب ان سے کہہ سنایا، تو ورقہ نے ان سے کہا: یہ وہی ناموس ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسی ﷣  پر اتارا تھا، کاش میں موجود ہوتا، کاش میں اس وقت جوان ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو باہر نکالے گی، تو رسول اللہ ﷺ نے کہا: کیا میری قوم مجھے نکال باہر کرے گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، جس کو لے کر  آپ آئے ہیں جو بھی اس کو لے کر آیا تو  اس سے دشمنی کی گئی، اگر مجھے وہ دن نصیب ہو تو آپ کی  پوری طرح مدد کروں گا 

آپ ﷺ کی نبوت

پھر کچھ ہی دن گزرا کہ ورقہ کی وفات ہو گئی اور وحی کا سلسلہ تھم گیا، نبی ﷺ فرماتے ہیں: ایک دن میں جا رہا تھا کہ اچانک آسمان سے آواز سنی، جب میں نے نگاہ اٹھائی تو دیکھا وہی فرشتہ جو حرا میں میرے پاس آیا تھا آسمان وزمین کے بیچ کرسی پر بیٹھا ہوا ہے، تو میں اس سے مرعوب ہو گیا، میں لوٹا اور بولا کہ: مجھے چادر اوڑھاؤ مجھے چادر اوڑھاؤ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿ﮬ  ﮭ       ﮮ  ﮯ   ﮰ      ﮱ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿ﯙ     ﯚ   ﯛ﴾[المُدَّثِّر]، پھر اس کے بعد معاملہ آگے

بڑھا اور وحی کا سلسلہ جاری ہو  گیا‘‘۔

وحی کے مراتب

[1] سچا خواب

یہ نبی ﷺکے وحی کی ابتدا تھی، چنانچہ حضرت عائشہ ﷞ فرماتی ہیں کہ: ’’آپ جو بھی خواب دیکھتے وہ صبح روشن کی طرح بالکل سامنے آ جاتا‘‘۔

[2] دل میں بات ڈال دیا جانا

نظر آئے بغیر فرشتہ آپ کے جی اور دل میں کوئی  بات ڈال دیتا، نبی ﷺفرماتے ہیں: ’’ روح الامین نے میرے جی میں یہ بات ڈالی ہے اور خبر دی ہے کہ ...‘‘۔

[3] انسان کی شکل میں آنا

آپنے فرمایا: ’’فرشتہ کبھی میرے سامنے انسان کی شکل میں آتا ہے اور بات کرتا ہے، تو وہ جو کہتا ہے میں یاد کرلیتا ہوں‘‘، اور اس شکل میں صحابہ بھی کبھی ان کو دیکھ لیا کرتے۔

[4]زنجير کی جھنکار

نبی ﷺ نے فرمایا: ’’کبھی کبھی میرے پاس گھنٹی  (کی سی آواز) کی صورت میں وحی آتی ہے، اور یہ حالت میرے لیے بڑی سخت ہوتی ہے، جب جبریل مجھ سے جدا ہوتے تو اس نے جو کہا ہوتا میں اسے یاد کر چکا ہوتا ‘‘، اور عائشہ ﷞ فرماتی ہیں: ’’میں نے سخت ٹھنڈ ی میں آپ پر وحی نازل ہوتے دیکھا ہے چنانچہ جب جبریلآپ سے الگ ہوتے تو آپ کی پیشانی  پسینہ آلود ہو چکی ہوتی ‘‘ بلکہ اگر آپ سوار ہوتے تو اس بوجھ کی وجہ سے آپ کی سواری زمین پر بیٹھ  جاتی تھی۔

[5] فرشتہ اپنی اصلی شکل میں

آپ ﷺ اس اصلی شکل میں دیکھتے جس پرانہیں پیدا کیا گیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ جو وحی کرنا چاہتا وہ وحی آپ تک پہنچاتے، اور ایسا دوبار ہوا  جیساکہ سورۂ نجم میں مذکور ہے۔

[6]بلا واسطہ  اللہ کی طرف سے وحی

اس کی مثال وہ ہے جو ساتوں آسمان کے اوپر اللہ تعالیٰ نے معراج کی رات میں نماز وغیرہ فرض کرنے کے تعلق سے وحی کی تھی۔

[7] اللہ کا آپسے گفتگو کرنا

جس طرح اللہ تعالیٰ موسی ﷣ سے بنا کسی فرشتہ کے واسطہ کے بات کرتا تھا ویسے ہی اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ سے بھی بلا واسطہ (شب معراج میں)  گفتگو فرمائی۔

تحریری سبق 15/26
آپ دیکھ رہے ہیں
دوسرا باب: وحی کی ابتدا