Urdu flag
Urdu
زبان منتخب کریں
Urdu flag
Urdu
Arabic flag
Arabic
English flag
English
French flag
French
German flag
German
Indonesian flag
Indonesian
Persian flag
Persian
Russian flag
Russian
Spanish flag
Spanish
Urdu icon Urdu
مختصر سیرت وشمائل نبی ﷺ 

نبى ﷺ کی سیرت

تعلیم کا دورانیہ
6 منٹ

آپ کی پیدائش

نبی ﷺ کی پیدائش فیل (ہاتھی کا واقعہ) والے سال ہجرت سے ۵۳ سال قبل سوموار کو ربیع الاول کے مہینہ میں مکہ میں ہوئی، جو کہ عیسوی اعتبار سے ۵۷۱ء؁ تھا۔ ( فیل والا واقعہ اور اللہ ﷯ کا ابرہہ کو  روک دینا، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی ﷺ اور اپنے گھر کے لیے بطور تمہید تھا)۔

والد

عبدالله بن عبد المطلب، جب آپ حمل ہی میں تھے تو ان کا انتقال ہو گیا اور آپ ﷺ یتیم پیدا ہوئے۔

ماں

آمنہ بنت وهب جو بنو زہرہ سے تھیں، آپ کی عمر ابھی سات سال بھی نہ ہوئی تھی کہ ان کا انتقال ہو گیا۔

کفالت

آپکی ماں کے انتقال کے بعد دادا عبد المطلب نے آپ کی پرورش کی، پھر جب  آپ ﷺ کی عمرتقریبا آٹھ سال تھی تو ان کا بھی انتقال ہو گیا، پھر آپ کے سگے چچا ابو طالب نے آپکی کفالت کی جن کا نام عبد مناف تھا ۔

آپ  کو دودھ پلانے والیاں

ثويبہ

یہ ابو لہب کی لونڈی تھیں، اور انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ ساتھ عبد اللہ بن عبد الاسد مخزومی ﷜ کو بھی دودھ پلایا تھا جو ان کے بیٹے مسروح کی وجہ سے اترا تھا، اور ان دونوں کے ساتھ ساتھ آپ کے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب ﷜ کو بھی انہوں نے دودھ پلایا تھا۔

حلیمہ سعدیہ

انہوں نے اپنے بیٹے عبد اللہ ، جو انیسہ اور جذامہ -انہی کو شیماء بھی کہا جاتا ہے- کے بھائی تھے اور جو حارث بن عبد العزی بن رفاعہ سعدی کی اولاد میں سے تھے،کی پیدائش کی وجہ سے اترنےوالا دودھ  نبی ﷺ کو پلایا تھا،  اور انہوں نے  نبی ﷺ کے ساتھ ساتھ آپ کے چچیرے بھائی  سفیان بن حارث بن عبد المطلب  ﷜ کو بھی دودھ پلایا تھا۔

آپ کو گود میں کھلانے والیاں

  • آپکی ماں آمنہ
  • ابو لہب کی لونڈی ثویبہ
  • حلیمہ بنت ابو ذؤیب سعدیہ

شيماء

شیماء، یہ حلیمہ سعدیہ کی بیٹی اور نبی ﷺ کی رضاعی بہن تھیں، یہی وہ خاتون ہیں جو ہوازن کے وفد میں نبی ﷺ کے پاس آئی تھیں تو آپ نے ان کے حق کا خیال کرتے ہوئے ان کے لیے اپنی چادر بچھائی اور ان کو اس پر بٹھایا۔

ام ایمن

انکا نام برکہ حبشیہ ﷞ تھا، یہ آپ کی دایہ تھیں جنہیں آپ نے اپنے والد سے ورثہ میں پایا تھا۔

نبی ﷺ نے ان کی شادی اپنے چہیتے زید بن حارثہ ﷜ سے کروائی تھی تو ان سے اسامہ بن زید ﷜ پیدا ہوئے۔

یہی وہ خاتون ہیں جن کے پاس نبی ﷺ کی وفات کے بعد ابو بکر اور عمر ﷟ آئے تو پایا کہ وہ رو رہی ہیں، ان دونوں نے ان سے پوچھا: کیوں رو رہی رہو؟ اللہ کے پاس جو ہے وہ اس کے رسول کے لیے یہاں سے بہتر نہیں ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ: (میں جانتی ہوں کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، اور رسول اللہ ﷺ جس حال میں تھے اس سے بہتر حال کی طرف کوچ کر گئے ہیں، لیکن میں اس لیے رو رہی ہوں کہ اب آسمان سے وحی کا  سلسلہ منقطع ہو گیا!! یہ کہہ کر ان

کی ہچکی بندھ گئی اور یہ دیکھ کر وہ دونوں بھی رونے لگے ﷢۔

آپ کا عمل

آپ نے بکریاں چرائیں، جو کہ آپ کے صبر،کمزوروں پر رحمت اور ان کی رعایت کا ایک بڑا  سبب بنا۔

نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ نے جتنے بھی نبی بھیجے سبھوں نے بکریاں چرائیں‘‘، صحابہ ﷢ نے  پوچھا: کیا آپ نے بھی؟ آپ نے کہا: ’’ہاں،  چند قیراطوں کے عوض میں مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا‘‘

۔آپ ﷺ کی تجارت و شادی

جب آپ کی عمر پچیس سال ہوئی تو آپ تجارت کی غرض سے شام کی طرف نکلے، اور بُصری جا کر واپس آئے، وہاں سے لوٹنے کے بعد آپ نے حضرت خدیجہ بنت خویلد ﷞  (جو آپ کی پہلی بیوی تھیں ان)   سے شادی کی۔

خانہ کعبہ کی تعمیر

جب آپ کی عمر پینتیس سال ہوئی تو کعبہ کی عمارت  جو کمزور ہو چکی تھی تو قریش نے اسے پھر سے بنانے کا ارادہ کیا،قریش کے قبیلوں نے خانہ  کعبہ کے حصوں کو آپس میں بانٹ کر ایک ایک حصہ لے لیا، جب حجر اسود کے مقام پر پہنچے تو اس بات پر اختلاف ہو گیا کہ کون اسے اٹھا کر اس کی جگہ پر رکھے گا؟ اسی میں چار یا پانچ راتیں گزر گئیں، پھر اس بات پر اتفاق ہوا کہ جو خانہ  کعبہ کے دروازے سے سب سے پہلے داخل ہوگا اسے اپنا حَکَم بنا لیں گے، اور سب سے پہلے داخل ہونے والے آپ ہی تھے تو انہوں نے آپ کو اپنا فیصل بنا یا، آپ نے ایک کپڑا منگواکر اس میں حجر اسود کو  رکھا پھر ہر قبیلہ  کے سردار سے  چادر کا  کنارہ پکڑنے کو کہا یہاں تک کہ جب اسے اس کی جگہ تک اٹھا لیا گیا تو آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے اس کی جگہ پر رکھ دیا۔

خلوت نشیں ہونا

عائشہ ﷞ فرماتی ہیں: ’’نبی ﷺ کو خلوت نشینی پسند تھی، آپ غار حرا میں جا کر اکیلے کئی کئی راتیں عبادت کیا کرتے تھے‘‘، اور آپ کے دل میں بتوں اور اپنی قوم کے دین سے نفرت ڈال دی گئی تھی، اس سے زیادہ قابل نفرت شے آپ کے نزدیک کچھ اور نہ تھی۔

تحریری سبق 14/26
آپ دیکھ رہے ہیں
نبى ﷺ کی سیرت