تیسیرالرحمن فی تفسیر کلام المنان
علامہ عبدالرحمن السعدی کی کتاب ”تیسیرالرحمن فی تفسیر کلام المنان “سے ماخوذ چند اقتباسات
اور ان پر سوالات وجوابات
[سورہ فاتحہ کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے]
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (الفاتحة: 1).
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الفاتحة: 2).
الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (الفاتحة: 3).
مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة: 4).
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة: 5).
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: 6).
صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ (الفاتحة: 7).
ترجمہ: سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔بدلےکے دن[یعنی قیامت] کا مالک ہے۔ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں،ہمیں سیدھی راہ دکھا۔ان لوگوں کی راہ جن پر تونے انعام کیا،ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا[یعنی وہ لوگ جنہوں نے حق کو پہچانا مگر اس پر عمل پیرا نہ ہوئے] ، اور نہ گمراہوں کی[یعنی وہ لوگ جو بلا علم ،عمل کرنے کے سبب راہ حق سے بھٹک گیے] ۔
تفسیر: ﱡبِسْمِ اللَّهِ ﱠ یعنی میں اللہ تعالی کے تمام ناموں سے ابتدا کرتا ہوں، کیوں کہ لفظ "اسم"مفرد اور مضاف ہے جو تمام اسمائے حسنی کو شامل ہے۔ اللَّهِ ﱠ وہ ذات ہے، جو بندگی کے لائق اور معبود ہے،صرف وہی عبادت کا مستحق ہے کیوں کہ وہ الوہیت کی صفات سے متصف ہے، جو صفات کمال ہیں۔ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ﱠ یہ دو نام ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی بے پایاں اور عظیم رحمت کا مالک ہے۔ان کی رحمت ہر چیز کا احاطہ کیے ہو ئی ہے ، اور اللہ تعالی نےپرہیزگاروں اور اپنے انبیا ورسل کے پیروکاروں کے لیے اس رحمت کو بطور خاص لازم فرمایاہے جبکہ یہ ہر جاندار کے لیے عام ہے،لہذا یہ وہ لوگ ہیں جن
اور اس سے مراد وہ رحمتیں ہیں جو مخلوقات کو حاصل ہیں، اس طرح تمام نعمتیں اللہ تعالی کی رحمت ہی کے آثار ہیں۔ اور یہی اصول تمام اسمائے حسنی پر منطبق ہوگا جیسے(العلیم)کے بارے میں کہاجائے گاکہ اللہ تعالی علیم ہے یعنی صاحب علم ہے اور اس علم کے ذریعے ہر چیز کوجانتا ہے۔ وہ (قدیر) یعنی قدرت والا ہےاورہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ ﱠ یہ اللہ تعالی کی صفات کمال اور اس کے ان افعال کے ذریعے ثناہے جو فضل وعدل کے درمیان گردش کرتے ہیں۔لہذا ہر پہلوسے اس کے لیے کامل حمد ہےﱡ ﱈ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﱠ "جو تمام جہانوں کا پروردگارہے"رَبِّﱠ وہ ہستی ہے جو تمام جہانوں کی پرورش کرنے والی ہے۔الْعَالَمِينَﱠ سے مراد اللہ تعالی کے سوا تمام مخلوق ہیں۔پہلے اس نے ان کو پیدا کیا،ان کے لیے ان کی زندگی کا سروسامان مہیا کیا اور پھر انہیں ان عظیم نعمتوں سے نوازا کہ اگر وہ نہ ہوتیں تو ان کے لیے زندہ رہنا ممکن نہ ہوتا ۔لہذا مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ تعالی ہی کی عطا کردہ ہے۔
مخلوق کے لیے اللہ تعالی کی تربیت (پرورش کرنے)کی دو قسمیں ہیں:
(۱) تربیت عامہ (۲) تربیت خاصہ
تربیت عامہ سے مراد ہے کہ اللہ تعالی نے تمام مخلوق کو پیدا کیا،ان کو رزق بہم پہنچا یا اور ان مفادات ومصالح کی طرف ان کی رہنمائی کی جن میں ان کی دنیا وی زندگی کی بقاہے۔
تربیت خاصہ وہ تربیت ہے جواس کے اولیاء کے لیے مخصوص ہے، چنانچہ وہ ایمان کے ذریعے ان کی تربیت کرتاہے،انہیں ایمان کی توفیق سے نوازتا اوران کی تکمیل کرتاہے۔وہ ان سے ان تمام امور کو دور کرتا ہے جو راہ حق پرچلنے سے انہیں باز رکھ سکتی ہیں اور ان جملہ رکاوٹوں کو ہٹاتا ہے جو ان کے اور اللہ تعالی کے درمیان حائل ہو سکتی ہوں۔
تربیت خاصہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس سے ہربھلائی کی توفیق ملتی ہے ،اور ہر برائی سے حفاظت نصیب ہوتی ہے، شایدیہی معنی انبیائے کرام علیہم السلام کی دعاؤں کاسرنہاں ہے کہ ان میں اکثر "رب" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ،کیوں کہ انبیائے کرام کی فریادیں تمام کی تمام اللہ تعالی کی ربوبیت خاصہ کے تحت آتی ہیں۔چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ﱡ ﱈ ﱉ ﱠاس بات پر دلالت کرتاہے کہ صرف اللہ تعالی ہی ہے
جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، وہ اکیلاہی ان کی تدبیر کرتاہے ،انہیں نعمتوں سے نوازتا ہے اور اسے ہی کمال بے نیازی حاصل ہے اور سارا جہاں ہرپہلواورہر اعتبار سے اس کا محتاج ہے۔
مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ﱠ "وہ بدلے کے دن کا مالک ہے
مَالِكِ
وہ ہستی ہے جو ملکیت کی صفت سے متصف ہو۔اس صفت کے آثارونتائج یہ ہیں کہ وہ ہستی حکم دیتی ہے اورروکتی ہے،[نیکی پر ] ثواب عطاکرتی ہے اور[گناہوں] پرسزادیتی ہے،وہ اپنی مملوکات میں ہر قسم کا تصرف کرتی ہے اوراس کی ملکیت میں سے ایک جزا کا دن بھی ہے اوروہ قیامت کادن ہے،جس دن لوگوں کو ان کے اچھے اوربرے کاموں کا بدلہ دیاجائے گا، [اس لیےاس دن کی ملکیت کا خصوصی ذکر آیا ہے]، اس روز اللہ تعالیٰ کی ملکیت کاملہ، اس کاکمال عدل وحکمت مخلوق پربالکل ظاہر ہوجائے گا اور یہ بھی واضح ہوجائے گاکہ مخلوق کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے،حتی کہ اس دن بادشاہ ، رعایا،غلام اور آزاد سب برابر ہوں گے۔اس روز تمام مخلوقات اس کی عظمت وعزت کے سامنے سرنگوں ہوگی۔جزاوسزا کے سلسلے میں تمام لوگ اس کے فیصلے کے منتظر ہوں گے ،اس کے ثواب کے امیدوار اوراس کی سزاسے خائف ہوں گے۔اسی بنا پراس نے بطور خاص اس دن کی ملکیت کا ذکر کیا ہے، ورنہ قیامت کے دن اور دیگر دنوں کا وہی تنہامالک ہے۔
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ "ہم تیری ہی عبادت کرتے اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں"۔یعنی تجھ اکیلے ہی کی ہم بندگی کرتے اور تجھ کو ہی مدد مانگنے کے لیے مخصوص کرتے ہیں، کیوں کہ (نحوی قاعدے کے مطابق)معمول کا اپنے عامل سے پہلے آنا حصر کامعنی پیدا کرتاہے اورحصر سے مراد صرف شخصِ مذکور کے لیے حکم ثابت کرنااور اس کے سوا جملہ افراد کی اس حکم سے نفی کرناہے۔ گویا بندہ کہتاہے: "ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے سواکسی کی
طلب گار ہونا، ابدی سعادت کا وسیلہ اور تمام برائیوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔لہذا نجات کا راستہ یہی ہے کہ عبادت بھی صرف ایک اللہ کی ہی کی جائے اورمدد بھی صرف اسی سے مانگی جائے۔اورعبادت اس وقت تک عبادت نہیں جب تک اسے رسول ﷺ سے لیا نہ گیا ہو اور اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا نہ ہو۔ان دو امور کے وجود سے عبادت متحقق ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے " استعانت" کو " عبادت" کے بعد ذکر کیا ہے،حالاں کہ استعانت عبادت میں داخل ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بندہ اپنی تمام عبادات میں اللہ تعالیٰ کی مدد کا محتاج ہے۔اگراللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد نہ فرمائے تو بندہ اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل اور اس کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب نہیں کرسکتا۔
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
سے مراد وہ واضح راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ اوراس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔یہ حق کی معرفت اور اس پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے۔ لہذااسی راستے کی طرف راہ نمائی فرما اوراسی راستے میں ہمیں اپنی راہ نمائی سے نواز۔
صراط مستقیم کی طرف راہ نمائی کا مطلب: دین اسلام کو اختیار کرنا اور اسلام کے سوا دیگر تمام ادیان کا ترک کرنا ہے۔ اور صراط مستقیم میں راہ نمائی سے نوازنے کے یہ معنی ہیں کہ تمام دینی معاملات میں علم وعمل کے اعتبار سے ہمار ی صحیح اورمکمل راہ نمائی فرما، لہذا یہ دعا سب سے جامع اور بندۂ مومن کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔بنا بریں انسان پر واجب ہے کہ وہ اپنی نما ز کی ہر رکعت میں اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کیوں کہ وہ اس کا ضرورت مند ہے۔ یہ صراط مستقیم ان انبیاء ،صدیقین،شہداء اورصالحین کا راستہ ہے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے ۔
ﱡ ﱟ ﱠ ﱡ ﱠ یہ ان لوگوں کاراستہ نہیں جن پرغضب نازل ہوا،جنہوں نے حق کو پہچان کربھی اسے ترک کردیا مثلایہود وغیرہ۔ ﱡ ﱢ ﱣ ﱠ اور نہ یہ گمراہ لوگوں کا راستہ ہے مثلا نصاری جو بلا علم عمل کرنے کے سبب صراطِ مستقیم سے بھٹک گیے،خلاصہ یہ ہے کہ سورہ فاتحہ اپنے ایجاز واختصارکے باوجود ایسے مضامین پر مشتمل ہے جو قرآن مجید کی کسی سورت میں نہیں پائے جاتے
۔چنانچہ سورہ فاتحہ توحید کی اقسام ثلاثہ کو متضمن ہے:
۔توحید ربوبیت:اللہ تعالیٰ کے ارشاد رَبِّ الْعَالَمِينَ سے ماخوذ ہے۔
قسم لفظ "اللہ" اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﱡ إِيَّاكَ نَعْبُدُ ﱠ سے ماخوذ ہے۔
توحید اسماء وصفات :توحید اسماء وصفات سے مراد ہے کہ بغیرکسی تعطیل(نفی اور انکار) ،تمثیل اور تشبیہ کے اللہ تعالیٰ کے لیے ان صفات کمال کا اثبات کرنا جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے اوررسول ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کیا ہے۔اوراس قسم پر لفظ ﱡﱋ ،ﱌ ﱠ دلالت کرتاہے۔جیسا کہ گزشتہ صفحات میں اس کا ذکر کیا جاچکا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﱡﱗ ﱘ ﱙ ﱠ میں نبوت کا اثبات ہے کیوں کہ سیدھے راستے کی طرف راہ نمائی نبوت ورسالت کے بغیر ناممکن ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﱡمَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ﱠ سے اعمال کی جزا وسزاثابت ہوتی ہے ،نیز یہ جزاوسزا مبنی بر انصاف ہوگی کیوں کہ"دین"کے معنی ہیں عدل کے ساتھ بدلہ دینا۔
اور سورہ فاتحہ میں تقدیر کا بھی اثبات ہے نیز یہ سورۃ اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ بندہ بھی حقیقت میں فاعل ہے۔قدریہ اورجبریہ کے عقیدے کے برعکس، بلکہ ﱡ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ﱠ میں تمام اہل بدعت وضلالت کی تردید ہے،کیوں کہ صراط مستقیم سے مراد حق کی معرفت اوراس پرعمل پیر اہونا ہے اور ہربدعتی اور گمراہ شخص حق کا مخالف ہوتا ہے۔
اس بات کو شامل ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کیا جائے، چاہے اس کاتعلق عبادات سے ہو یا استعانت سے۔فالحمدللہ رب العالمین۔