[سورہ تکاثرکی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے]
أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (التكاثر: 1).
حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (التكاثر: 2).
كَلاَّ سَوْفَ تَعْلَمُونَ (التكاثر: 3).
ثُمَّ كَلاَّ سَوْفَ تَعْلَمُونَ (التكاثر: 4).
كَلاَّ لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ (التكاثر: 5).
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ (التكاثر: 6).
ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ (التكاثر: 7).
ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ (التكاثر: 8).
ترجمہ: زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا۔یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کرلوگے۔ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا۔ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔تو بے شک تم جہنم دیکھ لوگے۔پھراس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا۔
تفسیر:
للہ تبارک وتعالی نے اپنے بندوں کوان امور،جن کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے،یعنی اکیلے اللہ، جس کا کوئی شریک نہیں ہے کی عبادت کرنا،اس کی معرفت،اس کی طرف انابت اور اس کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھنا، کوچھوڑ کر دوسری چیزوں میں مشغول ہونے پر زجروتوبیخ کررہاہے۔ "تمہیں غافل کردیا"۔مذکورہ بالا تمام چیزوں سے زیادہ طلب کرنے کی خواہش نے"۔اور جس چیز کی کثرت سےطلب کی جاتی ہے اللہ تعالی نے اس کا ذکر نہیں کیا تاکہ یہ ہر چیز کو شامل ہو جس کے ذریعےکثرت میں مقابلہ کرنے والے مقابلہ کرتے ہیں اور باہم فخر کرنے والے فخر کرتے ہیں، مثلا: مال، اولاد، مددگاران، فوجیں، خدمت گزاران اور جاہ وحشمت وغیرہ جس میں لوگ ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کا عزم کرتے ہیں اور اس میں اللہ تعالی کی رضا ان کا مطلوب ومقصود نہیں ہوتا۔ تمہاری غفلت’تمہارا لہو ولعب اور تمہاری مشغولیت دائمی ہوگئی"یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے"۔تب تمہارے سامنے سے پردہ ہٹ گیا مگر اس وقت جب تمہارا دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہیں رہا۔اللہ تعالی کا ارشاد:دلالت کرتا ہے کہ برزخ ایسا گھر ہے جس سے مقصود آخرت کے گھر کو جانا ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے ان کو"زائرین"کے نام سے موسوم کیا ہے"قیام کرنے والوں"سے موسوم نہیں کیا۔اور یہ چیز حیات بعد الموت اور ہمیشہ باقی رہنے والے کبھی نہ فنا ہونے والے گھر میں اعمال کی جزا وسزا پر دلالت کرتی ہے۔
اس لئے اللہ تعالی نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کو وعید سنائی
"ہر گز نہیں تمہیں عنقریب معلوم ہوجائےگا ۔ ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہوجائے گا۔ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو"۔یعنی جو کچھ تمہارے سامنے ہے،اگر تم اس کو جانتے ہوتے، ایسا جاننا جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے تو تمہیں ایک دوسرے سے زیادہ مال ومتاع حاصل کرنے کی خواہش غافل نہ کرتی اور تم جلدی سے اعمال صالحہ کی طرف بڑھتے مگر حقیقی علم کے نہ ہونے نے تمہیں اس مقام پر پہنچادیا جہاں تم اپنے آپ کو دیکھتے ہو یعنی تم ضرور قیامت کے دن لوٹائے جاؤگے،لہذا تم یقیناً اس جہنم کو دیکھ لوگے جسے اللہ تعالی نے کافروں کے لئے تیار کر رکھا ہے ﱡﲬ ﲭ ﲮ ﲯ ﱠ "پھر تم اس کو یقینی طور پر دیکھو گے"۔یعنی آنکھوں کی نظر سے دیکھو گے۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔
ﱡ پھر تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا جن سے تم دنیا کی زندگی میں لطف اندوز ہوتے رہے ہوکہ آیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا اور ان نعمتوں میں سے اللہ تعالی کے حق کو ادا کیا اور تم نے اللہ تعالی کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد نہیں لی تاکہ وہ تمہیں ان نعمتوں سے اعلی وافضل نعمتیں عطا کرے ؟۔یا تم ان نعمتوں کی وجہ سے فریب خوردہ رہے اور تم نے ان کا شکر ادا نہ کیا؟ بلکہ تم نے اللہ تعالی کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد لی تو اس پر اللہ تعالی تمہیں سزا دیگا۔ اللہ تعالی نے فرمایا:'جس دن ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا(تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنی لذتیں اپنی دنیا کی زندگی ہی میں ختم کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھا چکے، لہذا دنیا میں جو تم ناحق اکڑتے(تکبر کرتے) تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے اس کے بدلےآج تمہیں رسواکن عذاب دیا جائیگا۔
°°°°°°°°°°