سورہ قریش کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے
لأَيلاَفِ قُرَيْشٍ (قريش: 1).
إِيلاَفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ (قريش: 2).
فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ (قريش: 3).
الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ (قريش: 4).
ترجمہ:قریش کے مانوس کرنے کے لیے [یعنی] انہیں جاڑے اور گرمی کے سفر سےمانوس کرنے کے لیے۔ [اس کے شکریہ میں]۔ لہذا انہیں چاہیے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں ۔جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور ڈر[ اور خوف ] میں امن [وامان] دیا۔
تفسیر
:بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ جار اور مجرور کا تعلق ماقبل سورت سے ہے،یعنی ہم نے اصحاب فیل کے ساتھ جو کچھ کیا وہ قریش،ان کے لیے امن،ان کے مصالح کی درستی،تجارت اور کسب معاش کے لیے سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام کی طرف ان کے سفر کی خاطرکیا، اور اللہ تعالی نے ان تمام
لوگوں کو ہلاک کردیا جنہوں نے ان کے بارے میں کسی برائی کا ارادہ کیا۔عربوں کے دلوں میں حرم اور اہل حرم کے معاملے کو عظمت بخشی،یہاں تک کہ تمام عرب قریش کا احترام کرنے لگے،قریش جہاں بھی سفر کا ارادہ کرتے تو عرب معترض نہ ہوتے،اس لیے اللہ تعالی نے ان کو شکر ادا کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا لہذا وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں"۔یعنی اس کی توحید بیان کریں اور اس کے لیے عبادت کو خالص کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا، اور خوف سے امن وامان بخشا"۔رزق میں کشادگی اورخوف کے حالات میں امن کا حصول سب سے بڑی دنیاوی نعمتیں ہیں جو اللہ تعالی کے شکر کی موجب ہیں، اے اللہ! اپنی ظاہری اور اپنی باطنی نعمتوں پر تو ہی ہر قسم کی حمد وثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ اللہ تعالی نے بیت اللہ کے ساتھ اپنی ربوبیت کو اس کے فضل وشرف کی وجہ سے مخصوص کیا ہے ورنہ تو وہ ہر چیز کا رب ہے۔