اللہ کے ساتھ کسی اور سے محبت کرنا
اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ کسی اور کو شامل کرنا شرک اکبر ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:"اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کےسوا شریک ٹھہراکر ان سے
ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ سے محبت ہونی چاہیے"۔[البقرۃ:۱۶۵]
اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنا محبت کی یہ قسم واجب ہی نہیں بلکہ ایمان کی مضبوط رسیوں میں سے ایک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:"محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس
میں رحمدل ہیں"۔[الفتح:۲۹]
اس میں چار چیزیں شامل ہیں:
طبعی محبت(فطری محبت)
اور یہ محبت جائز ہے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کی محبت پر غالب نہ ہو،جیسے بچے اور بیوی سے محبت کرنا، نبی ﷺ نے فرمایا:"تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد ،والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں"۔
[بخاری:۱۵/مسلم:۴۴]
- ہر اس عمل سے محبت رکھنا جس سے اللہ تعالیٰ راضی اورخوش ہوتا ہے،اور یہ ہر اس بات کو شامل ہے جسے شریعت لے کر آئی جیسے:توحید۔
- اس پر عمل کرنے والے سے محبت کرنا ،جیسے: انبیا، رسل، فرشتے، صحابہ اور تمام موحدین (جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو ذرہ برابرشریک نہیں ٹھہراتے)۔
- ہراس وقت سے محبت رکھنا جس سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے،جیسے :شب قدر اور رات کا سہ پہر۔
- ہر اس جگہ سے محبت رکھنا جس سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے، جیسے،مکہ اور مدینہ ۔
"محمد رسول اللہ "کی شہادت میں (عبدہ)کا کیا مطلب ہے؟
- اس کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے ہیں اور جو بندہ ہو اس کی بندگی درست نہیں، کیونکہ اس میں ربوبیت ،الوہیت اور اسما وصفات کی خصوصیات نہیں پائی جاتی۔
- دوسرا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ مخلوق میں سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں اور انہوں نے اللہ کے لیے کمال عبودیت کے تمام تقاضے پورےکیے۔
اللہ کےلیے عبودیت کے اقسام
عام عبودیت
یعنی اللہ کی ربوبیت اور قہاریت میں عبودیت ۔اس اعتبار سے تمام مخلوقات اللہ کے بندے اورغلام ہیں ۔اللہ تعالی فرماتا ہے: "آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے بندے اور غلام بن کر آنے والے ہیں"۔[مریم:۹۳] اور اس میں مؤمن وکافر دونوں داخل ہے۔
خاص عبودیت
یعنی اللہ کی عام عبادت میں عبودیت ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: " اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر وقار کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں سلام"۔[الفرقان:۶۳]اس میں وہ تمام بندے شامل ہیں جو اللہ کی عبادت اس کی شریعت کے مطابق کرتے ہیں۔
سب سے خاص عبودیت
اللہ کےلیے یہ رسولوں کی عبودیت ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:"بے شک وہ شکر گزار بندہ تھے"۔[الاسراء:۳]
یہ سب سےاہم اور خاص عبودیت ہے۔ اس لیے کہ ان رسولوں کا عبودیت الہی میں کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔
نبی ﷺ کی حیات کا مختصر خاکہ
نبی ﷺ
کا نسب نامہ:
آپ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم ہیں،اور ہاشم قریش میں سے ،اور قریش عرب سے،اور عرب اسماعیل بن ابراہیم(علیہم السلام)کی ذریت (اولاد)میں سے ہیں۔
نبی ﷺ
نبی ﷺ
نبی ﷺ سلم کی ولادت
نبی ﷺ ہاتھی والے واقعہ کے سال ماہ ربیع الاول میں، شہر مکہ میں پیدا ہوئے ،آپ نے ۶۳سال کی عمر پائی، جن میں ۴۰ سال نبوت سے پہلے اور ۲۳ سال بطور نبی اور رسول شامل ہیں۔نبی ﷺ یتیم تھے، ولادت سے قبل ہی والد وفات پاچکے تھے، اور آپ اپنے دادا عبدالمطلب کی کفالت (سرپرستی)میں رہے، اور دادا کی وفات کے بعد آپ کی پرورش وپرداخت آپ کے چچا ابو طالب نے کی۔
نبی ﷺ کی بعثت:
نبی ﷺ جنات وانسان کی جانب مبعوث کیے گئے،چنانچہ جس کوبھی آپﷺ کی دعوت پہنچی اور وہ ایمان نہیں لایا تو وہ کافر ہے خواہ وہ کوئی ہو۔
نبی ﷺ
کی دعوت:
نبی ﷺنے توحید اور اچھے اخلاق و اعمال کی دعوت دی،اور شرک اور برے اخلاق واعمال سے روکا۔
نبی ﷺ کااسرا اور معراج:
نبی ﷺ کو مکہ سے بیت المقدس تک کی سیر کرائی گئی ،پھر وہاں سے ساتویں آسمان تک کی معراج کرائی گئی،جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ سے بات کی اور آپ پر پانچ وقت کی نمازفرض کی گئی۔
نبی ﷺ کی ہجرت اور وفات:
آپ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی،اور وہیں وفات پائی اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرےمیں دفن کیے گئے۔
نبی ﷺاور تبلیغ دین کا فریضہ:
اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے دین کو مکمل کردیا،اور آپ ﷺ نے واضح طور پردین کو پہنچا دیا ،امانت ادا کردی،امت کیلیے خیرخواہی مکمل فرمادی،اور اللہ کے راستے میں ہر قسم کا جہادکیا اور اس کا حق ادا کردیا،اب کسی کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ اس دین میں کسی قسم کا اضافہ کرے۔
نبی ﷺ کے اہم غزوات:
یہ سات ہیں:بدر،احد،خندق،خیبر،فتح مکہ، حنین اور تبوک ۔
نبی ﷺ کی سات اولاد تھیں:
قاسم،ابراہیم ،عبداللہ،(طیب طاہر)رضی اللہ عنھم اور زینب ،رقیہ،ام کلثم اور فاطمہ رضی اللہ عنہن ہیں ، سبھوں کی وفات آپ کی زندگی میں ہوئی سوائے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ،ان کی وفات نبی ﷺ کی وفات کے 6 ماہ بعد ہوئی۔
نبی ﷺ کی بارہ بیویاں تھیں:
- خدیجہ،
- عائشہ
- ،سودہ
- ،حفصہ
- ،زینب
- ہلالیہ
- ،ام سلمہ ہند
- ،زینب بنت جحش
- ،جویریہ بنت حارث
- ،صفیہ بنت حیي
- ،ام حبیبہ
- ریحانہ بنت زید اور میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنھن ہیں۔
نبی ﷺ کو دودھ پلانے والی خواتین:
نبی ﷺ کی والدہ آمنہ بنت وہب، آپ ﷺ کے چچا ابو لہب کی لونڈی اور حلیمہ بنت ابی ذؤیب سعدیہ رضی اللہ عنہا ۔
نبی ﷺ پر نازل ہونے والی پہلی وحی :
سورہعلق کی ابتدائی پانچ آیتیں:
﴿ ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ ١ خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ ٢ ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ ٣ ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ ٤ عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ ٥ ﴾
(العلق: 1-5)
پڑھ اپنے رب کے نام سے ،جس نے انسان کو پیدا کیا خون کے لوتھڑے سے ،پڑھ اور تیرا رب بہت کرم والا ہے،جس نے انسان کو قلم کے ذریعہ وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
نبی ﷺ کا اخلاق:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور بے شک آپ اخلاق کے اعلی درجے پر فائز ہیں،اور ام المؤمنین عائشہ رضی عنہا فرماتی ہیں: (کان خلقہ القرآن) نبی ﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔
سیرت نبوی کے مطالعہ کی اہمیت:
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"چونکہ دونوں جہاں یعنی (دنیا وآخرت)میں بندے کی سعادت نبی کریم ﷺ کے طریقے پر چلنے میں ہے ، لہذا ہر وہ شخص جو اپنے نفس کا خیر خواہ ہو اور نجات وسعادت مندی چاہتاہو، اسے چاہیے کہ وہ آپ ﷺ کے طریقے،سیرت واخلاق اور احوال ومعاملات کو اس طرح جانے کہ جس کی بنا پر وہ جاہلوں کی صف سے نکل کرآپ ﷺ کے متبعین اور ماننے والوں میں شامل ہوجائے ۔
اس باب میں تین قسم کے لوگ ہیں:کوتاہی کرنےوالے،حق ادا کرنے والے اور محروم ہوجانے والے۔ اور فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے نواز تاہے۔ اور اللہ تعالیٰ بڑا فضل والا ہے"۔