سورہ نصر کی تفسیر اور یہ مدنی سورت ہے
إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (النصر: 1).
وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (النصر: 2).
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا (النصر: 3).
ترجمہ:جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے ۔ اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق درجوق آتا ہوا دیکھ لیں۔ تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگیں حمدکے ساتھ، اور اس سے مغفرت کی دعا مانگیں، بے شک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والاہے۔
تفسیر:
اس سورۂ کریمہ میں ایک خوشخبری ہے ،اس خوشخبری کے حاصل ہوجانے پر رسول ﷺ کے لیے ایک حکم ہے،نیز اس میں اس خوشخبری پر مترتب ہونے والے احوال کی طرف اشارہ اور اس پر تنبیہ ہے۔خوشخبری اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ کی نصرت ،فتح مکہ اور لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج درفوج داخل ہونے کی ہے، ان میں سے بہت لوگ آ پ کے دشمن تھے۔
اس کے بعد وہی لوگ آ پ کے اعوان و انصار ہوں گے اور جس چیز کے بارے میں خوشخبری دی گئی تھی وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔رہا فتح ونصرت کے بعد حکم تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ اس فتح ونصرت پر اس کا شکر کریں،ا س کی حمد وثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کریں اور اس سے استغفار کریں۔ اس میں دو اشارے ہیں:
اول:
دین اسلام دائمی فتح و نصرت سے بہرہ مند رہے گا، اس کے رسول کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے ساتھ تسبیح اور استغفار پر اس نصرت میں اضافہ ہوگا ، کیوں کہ تسبیح استغفار، شکر ہی شمار ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ﭐﱡﭐﱠ ﱡ ﱢﱠ (ابراھیم:۷)"اگر تم شکرکروگے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا "اور یہ چیز خلفائے راشدین کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی امت کو حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ ہم رکاب رہی،یہاں تک کہ اسلام اس مقام پر پہنچ گیا جہاں تمام ادیان میں سے کوئی دین نہیں پہنچ سکا،حتی کہ امت سے اللہ تعالیٰ کے احکاما ت کی مخالفت میں افعال صادر ہونے لگے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے تفرقہ وانتشار امر کے ذریعے انہیں آزمایا ، پھر جو ہونا تھا ہوا۔بایں ہمہ اس
امت پر اور اس دین پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اس کا لطف وکرم ہے،جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی خیال کی وہاں تک رسائی ہو سکتی ہے۔
دوم:
رسول ﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی موت قریب آگئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی عمر مبارک،فضیلت والی عمر ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہےاور اس نے مقرر فرمادیا ہے کہ فضیلت والے امور کا اختتام ،استغفار کے ساتھ ہو،مثلا:نماز اور حج وغیرہ ۔لہذا اللہ تعالیٰ کا اس حال میں آپ کو حمد واستغفارکاحکم دینا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی وفات کا وقت قریب آگیاہے۔ اب آپ کو اپنے رب کی ملاقات کے لیے مستعد اور تیار رہنا چاہیے اور آپ کو اپنی عمر کا اختتام اس افضل ترین چیز پر کرنا چاہیے جو آپ موجود پاتے ہیں ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔
چنانچہ آپ r قرآن کی (اس آیت کی)عملی تفسیر کرتے ہوئے،اپنی نماز کے اندر رکوع وسجود میں بکثرت یہ دعا پڑھا کرتے تھے سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي. (بخاری،کتاب الاذان ،باب الدعاء فی الرکوع،حدیث:۷۹۴،مسلم،کتاب الصلوات ،باب مایقال فی الرکوع والسجود،حدیث :۴۸۴).
"اے اللہ ! ہم تیری حمد وثنا کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں،اے اللہ!مجھے بخش دے"۔