سورہ فلق کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (الفلق: 1).
مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ (الفلق: 2).
وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (الفلق: 3).
وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ (الفلق: 4).
وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (الفلق: 5).
ترجمہ:آپ کہہ دیجئے !کہ میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔اور ہراس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کااندھیرا پھیل جائے۔اور گرہ[لگاکر ان]میں پھونکنے والیوں کے شر سے[بھی]۔اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وہ حسد کرے۔
تفسیر
: یعنی آپ اللہ کی پناہ مانگنے کے لیے کہیےمیں پناہ ڈھونڈتاہوں اور اپنا بچاؤتلاش کرتاہوں "رب فلق کے ذریعے"۔یعنی جو دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے اور صبح کونمودار کرتا ہے ہر چیز کے شرسے جو اس نے بنائی‘‘۔
یہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات ،انسان ،جنات اور حیوانات سب کو شامل ہے۔لہذا ان کے اندر موجود شر سے،ان کے پیدا کرنے والے کی پناہ مانگی جاتی ہے۔پھراللہ تعالیٰ نے عام چیزوں کا ذکر کرنے کے بعد خاص چیزوں کا ذکر کیا،فرمایا ﱠ "اور شب تاریک کی برائی سے جب ا س کا اندھیرا چھاجائے"۔یعنی میں اس شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جو رات کے اندر ہوتاہے،جب وہ لوگوں پر چھاجاتاہے۔اور اس میں بہت سی شریر ارواح اور موذی حیوانات پھیل جاتے ہیں یعنی جادو کرنے والی عورتوں کے شر سے جو اپنے جادو کے ذريعہ گرہوں میں پھونکوں سے کام لیتی ہیں جن کو وہ جادو کے لیے باندھتی ہیں اور حاسدکے شر سے جب وہ حسد کرے"۔حاسد وہ ہے جو محسودکی نعمت کا زوال چاہتا ہے اور ان تمام اسباب کے ذریعے جن پر وہ قادر ہے ، اس کی نعمت کے زوال کے لیے کوشاں رہتا ہے۔نظر لگانے والا بھی حاسد ہی شمار ہوتاہے،کیوں کہ نظر بد صرف حاسد ،شریر الطبع اور خبیث النفس شخص ہی سے صادرہوتی ہے۔یہ سورۂ کریمہ ،عام طور پر اور خاص طور پرشر کی تمام قسموں سے پناہ چاہنے کو شامل ہے،اور جادوکی حقیقت اور اس سے پناہ مانگنے پر دلالت کرتی ہے۔