سورہ ماعون کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے
أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ (الماعون: 1).
فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ (الماعون: 2).
وَلاَ يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ (الماعون: 3).
فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ (الماعون: 4).
الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاَتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون: 5).
الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ (الماعون: 6).
وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ (الماعون: 7).
ترجمہ: کیا تونے [اسے بھی] دیکھا جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے؟یہی وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ان نمازیوں کے لیے افسوس[اور ویل نامی جہنم کی جگہ] ہے۔جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔جو ریاکاری کرتے ہیں۔اور برتنے کی چیز روکتے ہیں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس شخص کی مذمت کرتے ہوئے جس نے اس کے اوراس کے بندوں کے حقوق کوترک کردیا،فرماتاہے کیاتونے اس شخص کو دیکھا جو موت کے بعد
کی زندگی کو جھٹلاتا ہے، اور جو کچھ انبیاء ومرسلین لے کرآئے ہیں ان پر ایمان نہیں لاتا؟ لہذا یہی وہ شخص ہے جو سخت دلی اور تند خوئی سے یتیم کو دھکے دیتاہے اور اپنی سنگ دلی کی بناپر اس پر رحم نہیں کرتا،نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ وہ ثواب کی امید رکھتا ہے نہ عذاب سے ڈرتا ہے۔ ﱡﱠ ﱡﱠ اور دوسروں کو ترغیب نہیں دیتا"مسکین کے کھلانے پر"۔ اور وہ خود بھی مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نما زسے غفلت برتتے ہیں "،یعنی وہ اپنی نمازضائع کرتے ہیں، اس کے مسنون وقت کوترک کرتے ہیں، اور اس کے ارکان کو اچھے طریقے سے ادا نہیں کرتے ،اس کاسبب اللہ تعالیٰ کے حکم سے بے اعتنائی ہے کہ انہوں نے نمازکوترک کردیا جوسب سے اہم عبادت ہے۔نمازسے غفلت ہی ہے جونمازی کومذمت اور ملامت کا مستحق بناتی ہے۔اور رہا نماز کے اندر سہو تو یہ ہرایک سے واقع ہوجاتاہے حتی کہ نبی اکرمﷺ سے بھی واقع ہوا ہے۔بنا بریں اللہ تعالیٰ نے نماز سے غافل لوگوں کوریاکاری ، سنگ دلی اور بے رحمی جیسی صفتوں سے متصف کیا ہے۔فرمایا: ﱡﱯ ﱰ ﱱﱠ یعنی وہ لوگوں کے دکھاوے کے لیے عمل کرتے ہیں۔ﱡ ﱳ ﱴﱠ کسی چیزکو عاریتا یا ہبہ کے طور پر عطا کرنے سے جس کے عطا کرنے پر ان کو نقصان نہیں پہنچتا،روکتے ہیں،مثلا: برتن ،ڈول،کلہاڑی وغیرہ جن کو استعمال کے لیے دینے اوران کے بارے میں فیاضی کرنے کی عام عادت جاری ہے۔تو جب یہ لوگوں کو اپنی شدید حرص کے باعث استعمال کی معمولی اشیاء کودینے سے منع کرتے ہیں، تب ان سے زیادہ بڑی چیزیں (لوگوں کو استعمال کے لیے)دینے میں ان کا کیا حال ہوگا؟
اس سورۂ مبارکہ میں یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے ،نیز نماز کاخیال رکھنے، اس کی حفاظت کرنے اور نمازاور دیگر تمام اعمال میں اخلاص کو مدنظر رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز نیکی پر عمل کرنے،معمولی چیزوں کو استعمال کے لیے عطا کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے،مثلا‘برتن ،ڈول اور کتاب وغیرہ ،کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مذمت کی ہے جو ایسا نہیں کرتا۔واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب ۔ والحمد للہ رب العالمین۔