سورہ کافرون کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے
قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ (الكافرون: 1).
لاَ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ (الكافرون: 2).
وَلاَ أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (الكافرون: 3).
وَلاَ أَنَا عَابِدٌ مَا عَبَدتُّمْ (الكافرون: 4).
وَلاَ أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (الكافرون: 5).
لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ (الكافرون: 6).
ترجمہ: آپ کہہ دیجیے کہ اے کافرو! نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو۔نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔اور نہ میں عبادت کروں گا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہاہوں۔تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے۔
تفسیر: ﱡ
یعنی کفار کو نہایت صراحت کے ساتھ،آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو "۔یعنی آپ کفار کے ان خود ساختہ معبودوں سے براء ت کا اظہار کریں جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ظاہر اور باطن میں عبادت کرتے ہیں" نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں "۔کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمہاری عبادت میں اخلاص نہیں پایا جاتا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تمہاری عبادت جو شرک سے آلودہ ہے، عبادت نہیں کہی جاسکتی۔ اس جملے کو بار بار بیان کیا تاکہ پہلا فعل کے نہ پائے جانے پر دلالت کرے اور دوسرااس امر پر دلالت کرے کہ یہ ان کی لازمی صفت بن گئی تھی،اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے درمیان امتیاز اور تفریق کی ہے۔فرمایا:ﱟ ﱠ " تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے