شرک کی تیسری قسم شرک خفی ہے
، جس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنْ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؟ " قَالَ: قُلْنَا: بَلَى. فَقَالَ: "الشِّرْكُ الْخَفِيُّ، أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يُصَلِّي فَيُزَيِّنُ صَلَاتَهُ لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ رواه ابن ماجه کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتا دوں جس کا تمہارے بارے میں مجھے مسیح دجال سے بھی زیادہ خوف ہے؟صحابہ نے کہا کیوں نہیں اے اللہ کےرسول ،تو فرمایا:"شرک خفی"یعنی پوشیدہ شرک،آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور کسی کی نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ پاکر اپنی نماز کو خوبصورت بنانے لگے۔
اور شرک کو دو قسموں میں تقسیم کرنا بھی درست ہے،
- شرک اکبر
- شرک اصغر،
کیونکہ شرک خفی دونوں قسموں کو شامل ہے۔
شرک اکبر میں شرک خفی کی مثال منافقوں کا شرک ہے، کیونکہ وہ اپنے باطل عقیدے کو چھپاتے ہیں اور ریاکاری اور ڈر کی وجہ سے اسلام کا اظہار کرتے ہیں۔
اور شرک اصغر میں سے ریاکاری اور دکھاواہے ، جیسا کہ محمود بن لبید انصاری کی حدیث میں ہے جو اوپرگزری اور ابوسعید کی حدیث میں ہے جس کا ذکر ہوا۔