سورہ ناس کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (الناس: 1).
مَلِكِ النَّاسِ (الناس: 2).
إِلَهِ النَّاسِ (الناس: 3).
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (الناس: 4).
الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ (الناس: 5).
مِنْ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (الناس: 6).
ترجمہ: آپ کہہ دیجئے کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ میں آتاہو ں۔لوگوں کے مالک کی، [اور] لوگوں کےمعبود کی[پناہ میں] وسوسہ ڈالنے والے اور پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔[خواہ]وہ جن میں سے ہو یا انسان میں سے۔
تفسیر
:یہ سورۂ مبارکہ لوگوں کے رب،ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس ،شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے، جس کا فتنہ اور شر یہ ہے کہ
وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، برائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے اوراس کے ارتکاب کے لیے ان میں نشاط پیدا کرتاہے۔وہ انہیں بھلائی
سے باز رکھتا ہے ، وہ ہمیشہ اسی حال میں رہتاہے کہ وہ وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے ،یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتاہے اور اس کودفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتاہے۔
بندے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ذریعے جو تمام لوگوں میں عام ہے ،مدد طلب کرے اوراسی کی پناہ میں آکر اپنا بچا ؤکرے۔تمام مخلوقات اس کی ربوبیت اوربادشاہی کے تحت ہیں،اور تمام جاندار اس کی قدرت و اختیار کے دائرے میں ہیں۔نیز بندہ اللہ کی الوہیت کی پناہ حاصل کرے جس کے لئے اس نے ان سب کی تخلیق فرمائی، اور ان کے لیے یہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے دشمن کے شرکا دفع نہ کیا جائے جوانہیں اس کے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے، اوروہ چاہتاہے کہ وہ ان کو اپنے گروہ میں شامل کرلے تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔
وسوسہ جس طرح جنات کی طرف سے ہوتا ہے، اسی طرح انسانوں کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے،اس لیے فرمایا وسوسہ ڈالنے والا خواہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
والحمدللہ رب العالمین اولاوآخرا ،ظاھرا وباطنا۔ اور اول وآخر اور ظاہر وباطن تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہاں کا رب ہے اور ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہم پراپنی نعمت پوری کردے اور ہمارے گناہوں کو معاف کردے جو ہمارے اور اس کی برکتوں کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں،اور ان خطاؤں اور خواہشات نفسانی کو بھی دورکردے جو اس کی آیتوں میں تدبر کرنے سےہمارے دلوں کو غافل کردیتی ہیں، اور ہم اس سےامید رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں ہمارے شر کی وجہ سے اپنے خیر سے محروم نہیں کرے گا۔کیوں کہ اللہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کےتمام آل واصحاب پر اور اللہ کا شکر ہے جس کی نعمت سے تمام نیک کام پورے ہوتے ہیں۔