قضاء حاجت کے آداب
مستحب امور:
۔بیت الخلاء جاتے وقت پہلے بائیں پاؤں کو داخل کرے،اور یہ دعا پڑھے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْخُبُثِ وَالخَبَائِثِ اے اللہ! میں خبیث نر ومادہ جنات کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
۔اور بیت الخلا سے نکلتے وقت پہلے دائیں پاؤں کو نکالے اور یہ دعا پڑھے: غُفْرَانَكَ۔اے اللہ مجھے معاف کردے۔
واجب امور:
دیوار سے یا اور کسی چیزسے پردہ پوشی واجب ہے،اور کھلی جگہ میں ہو تو لوگوں کی نگاہ سے دو ر چلاجائے۔
ناجائز امور:
- راستہ میں لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ پر یا پھل دار درخت کے نیچے یا اس جگہ پر جس سے لوگوں کو تکلیف پہنچے، یاٹھہرے ہوئے پانی میں قضائے حاجت کرنا درست نہیں۔
- قضائے حاجت کے وقت قبلے کی طرف رخ کرنا یا پیٹھ کرنا درست نہیں ہے۔
- دا ئیں ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونا درست نہیں ہے۔
- اللہ کا نام لینا۔
جب قضائے حاجت سے فارغ ہو جائے تو پانی سے دھولے یا پتھر سے صاف کرلے۔
پتھر کے ذریعے پاکی حاصل کرنے کی شرطیں:
-تین مرتبہ صاف کرے یا اس سے زیادہ اور ایک ہی پتھر کا استعمال نہ کرے۔
-مکمل صاف کرے،جس کی پہچان یہ ہے کہ پتھر یا ٹیشو استعمال کے بعد سوکھا نظر آجائے۔
- ناپاک اور قابل احترام چیز جیسے کھانا ،ہڈی اور گوبر سے استجمار درست نہیں ہے ۔
- کھڑے ہوکر پیشاب کرنا جائز ہے بشرطیکہ پیشاب کا چھینٹا بدن یا کپڑے پر نہ لگے،اور بے پردگی سے محفوظ ہو۔کیوں کہ حدیث میں ہے : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ r سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا متفق عليه آپ rلوگوں کے کچرا پھینکنے والی جگہ پر آئے اور کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔