نماز کو باطل کرنے والی پہلی چیز
نماز کو باطل کرنے والی پہلی چیز
جان بوجھ کر بات چیت کرنا۔لیکن جب امام سے سہو ہویاقراءت میں غلطی ہوجائے اور مقتدی اس پر تنبیہ کرے تو اس سے نماز باطل نہیں ہوگی۔
ایسی حرکتیں جو حرام ہیں:
یہ وہ حرکتیں ہیں جو
بلا حاجت پے درپے کثرت سے کی جائیں۔مثال کے طور پر کھانا پینا۔
ایسی حرکتیں جو مکروہ ہیں:
جیسے:بغیر کسی ضرورت کے معمولی حرکتیں کرنا، مثال کے طور پر ادھر ادھر پھر جانا۔
ایسی حرکتیں جو مباح ہیں:
جو ضرورت کے پیش نظرہوں مثال کے طور پر، سر، داڑھی اور بدن وغیرہ کھجانا۔
ایسی حرکتیں جو مستحب ہیں:
یہ وہ حرکتیں ہیں جن کا تعلق کمال نماز سے ہو۔مثال کے طور پر صف میں خالی جگہوں کو بھرنا۔
ایسی حرکتیں جو واجب ہیں:
وہ حرکتیں جن کا تعلق نما زکی درستگی سے ہو۔ مثال کے طور پرنجاست کو دور کرنا۔
اہم تبنیہ
نماز کے شروط، ارکان ، واجبات اورسنن کے درمیان کیا فرق ہے:
شرط
اس کا تعلق خارج عبادت سے ہے۔
شرط کا پوری عبادت میں شروع سے آخر تک پایا جانا ضروری ہے
شرط اور رکن کاچھوڑنے والا معذور نہیں ہوگا،خواہ بھول کر یا جان بوجھ کر یا جہالت میں چھوڑے۔
شرط کے چھوڑنے پر سجدہ سہو نہیں ہے بلکہ اس سے عبادت ہی باطل ہوجاتی ہے۔
رکن کے چھوڑنے پر سجدہ سہو کافی نہیں ہوگا بلکہ اس کا ادا کرنا واجب ہوگا۔
رکن - واجب - سنت
رکن
- ان تینوں کا تعلق داخل عبادت سے ہے
- ان جملہ اعمال کا تعلق عبادت کے بعض حصے سے ہوتاہے
- شرط اور رکن کاچھوڑنے والا معذور نہیں ہوگا،خواہ بھول کر یا جان بوجھ کر یا جہالت میں چھوڑے۔
- رکن کے چھوڑنے پر سجدہ سہو کافی نہیں ہوگا بلکہ اس کا ادا کرنا واجب ہوگا۔
واجب
- ان تینوں کا تعلق داخل عبادت سے ہے
- ان جملہ اعمال کا تعلق عبادت کے بعض حصے سے ہوتاہے
- واجب کا چھوڑنے والا معذور ہوگا جب جہالت اور بھول چوک سے چھوڑے۔ اور جان بوجھ کر ایساکرنے والا معذور نہیں سمجھا جائے گا۔
- واجب کے چھوڑنے پر سجدہ سہو کافی ہوگا۔
سنت
- ان تینوں کا تعلق داخل عبادت سے ہے
- ان جملہ اعمال کا تعلق عبادت کے بعض حصے سے ہوتاہے
- سنت کا چھوڑنے والا معذورہوگا خواہ جہالت اوربھول چوک سے چھوڑے یاجان بوجھ کرے۔