سورہ کوثر کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے
إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (الكوثر: 1).
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (الكوثر: 2).
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ (الكوثر: 3).
ترجمہ:یقینا ہم نے تجھے [حوض] کوثر[اور بہت کچھ]دیا ہے۔لہذا تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔یقینا تیرا دشمن ہی لاوارث اور بے نام ونشان ہے۔
تفسیر
:اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ پر احسان کرتے ہوئے خطاب فرماتا ہے یعنی ہم نے آپ کو خیر کثیر اور فضل عظیم عطاکیا۔منجملہ اس خیر کثیر میں سے جو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو عطا فرمائے گا ،ایک نہر بھی ہے جس کو (ﱸ) کہاجاتا ہے،حوض کوثر کا طول ایک ماہ کی مسافت اوراس کا عرض بھی ایک ماہ کی مسافت ہے،ا س کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے بڑھ کر میٹھا ہے، اس کے پینے کے برتن،اپنی کثرت اور چمک میں،آسمان کے ستاروں کے مانند ہوں گے۔جو کوئی حوض کوثر سے ایک مرتبہ پانی پی لے گا، اس کے بعد اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد e پر اپنے احسان و عنایت کے سبب آپ کو شکر گزاری کا حکم فرمایا، چنانچہ فرمایا: ﱠ "لہذا اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر"۔اللہ تعالیٰ نے ان دو عبادتوں کا خاص طور پر ذکرفرمایا،کیوں کہ یہ دونوں افضل ترین عبادات اور تقرب الہٰی کا جلیل ترین ذریعہ ہیں،نیز ان دونوں کا بطور خاص ذکرکرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نماز قلب اور جوارح میں خشوع کو شامل ہے ،پھر وہ بندے کو عبادت کی دیگر اقسام کی طرف منتقل کر دیتی ہے۔جانور ذبح کرنے میں یہ حکمت ہے کہ بندے کے پاس جو کچھ ہے اس میں سے افضل ترین چیز قربانی کے ذریعے اللہ کی قربت حاصل کرنا اور مال خرچ کرنا ہے ،جس سے محبت کرنا اور اس میں بخل کرنا نفس انسانی کا جبلی وصف ہے۔
آپ سے بغض رکھنے والا، آپ کی مذمت اور تنقیص کرنے والا ﱡ ﲀ ﲁﱠ یعنی وہ ہر بھلائی سے محروم ہے ، اس کا عمل منقطع ہے اور اس کا ذکر منقطع ہے۔رہے رسول مصطفی محمد ﷺ تو حقیقت میں وہی کامل ہیں،آپ کمال کے اس بلند ترین مرتبے پر پہنچے ہوئے ہیں جہاں تک پہنچنا مخلوق میں سے کسی کے لیے ممکن نہیں، مثلا:بلندئ ذکر،کثرت انصار اور کثرت متبعین۔
°°°°°°°°°°