وضو کو توڑنے والی چیزیں چھ ہیں:
۱۔دونوں شرمگاہوں سے کسی چیز کا نکلنا ۔
۲۔جسم سے نجس چیزوں کا کافی مقدارمیں نکلنا۔
۳۔سونے یا اور کسی وجہ سے عقل کا زائل ہونا۔
۴۔ دونوں شرمگاہوں میں سے کسی ایک کو بغیر کسی حائل کے ہاتھ سے ؤچح چھونا۔
۵۔اونٹ کا گوشت کھانا۔
۶۔اسلام سے مرتد ہونا۔
اہم تنبیہات:
راجح قول کے مطابق میت کو غسل دینے سے وضونہیں ٹوٹتا ،اور یہی اکثر علماء کا فتوی ہے، کیوں کہ اس پر کوئی صریح دلیل موجود نہیں ہے، سوائے اس کے کہ غسل دینے والا میت کی شرمگاہ کو بغیر کسی حائل کے چھو لے تو اس پر وضو واجب ہوگا،اور غسل دینے والے کے اوپر واجب ہے کہ وہ میت کی شرمگاہ کو بغیر کسی حائل کیے نہ چھوئے۔
اسی طرح علماء کے دوقول میں سے صحیح ترین قول کے مطابق بیوی کو چھونے سے بھی وضو نہیں ٹوٹتا چاہے شہوت سے چھوئے یا بغیر شہوت کے، بشرطیکہ شرمگاہ سے کوئی چیز نہ نکلے،کیونکہ آپﷺ نے اپنی بعض بیویوں كا بوسہ لیا اور دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کی۔
اور اللہ تعالیٰ كا فرمان : ﭐﱡﭐ ﲳ ﲴ ﲵ ﱠ ( النساء: ٤٣) [یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو]اس سے مرادعلماء کے دو اقوال میں سے صحیح قول کے مطابق جماع [ہمبستری] ہےاور یہی قول ابن عباس اور سلف وخلف میں سے ایک بڑی جماعت سے منقول ہے۔