سورہ فاتحہ اور چھوٹی سورتوں کا بیان
سورہ فاتحہ اور چھوٹی سورتوں کا بیان
سورہ فاتحہ اور چھوٹی سورتوں یعنی سورہ زلزال تا سورہ ناس کو حتی المقدور درست طریقہ پر سیکھنا، سکھلانا، اور قراءت کی تصحیح کرنا، حفظ کرنا نیز ان تمام باتوں کی تشریح کرنا، جن کا سمجھنا ضروری ہے۔
وضاحت
مناسب ہے کہ سلف صالحین کے طریقہ کی پیروی کرتے ہوئے، ہر دن دس آیتیں شرح کے ساتھ کسی مختصر تفسیر جیسے تفسیر ابن سعدی سے یاد کی جائیں ور ان پر عمل پیرا ہونےکے لئے اللہ سے مدد طلب کی جائے۔
طالب علم کس تفسیر سے شروع کرے؟
طالب علم کے لیے مناسب ہے کہ وہ شیخ عبد الرحمن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ کی تفسیر "تیسیر الرحمن فی تفسیر کلام المنان"سے شروع کرے ۔
- علمائے کرام نے اس کی نصیحت کی ہے اورخود بھی اس کی طرف توجہ فرمائی ہے۔
- یہ ایک مختصر تفسیر ہے جو کہ مبتدی کیلئے بہت ہی مناسب ہے۔
- اس کی عبارت آسان اور واضح ہے جس میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے۔
- قرآن پر عمل کرنے میں معاون ہے۔ بإذن اللہ۔
- مؤلف رحمہ اللہ نے اس کتاب میں توحید کے مسائل پر خصوصی توجہ دی ہے۔
قرآن کریم کے ساتھ برتاؤ کرنے کے معاملے میں لوگوں کی قسمیں
تفریط سے کام لینے والے،افراط کرنے والے اور درمیانی راہ اختیار کرنے والے
تفریط سے کام لینے والے
یہ وہ لوگ ہیں، جو قرآن کو بھلا بیٹھتے ہیں،
افراط سے کام لینے والے
یہ وہ لوگ ہیں، جوبغیر کسی غور وتدبراورعمل کے قرآن کو پڑھتے اور یاد کرتے ہیں۔
اعتدال سے کام لینے والے
یہ وہ لوگ ہیں، جوقرآن کو پڑھتے اور یاد کرتے ہیں، اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس پر عمل کرنے کیلئے اللہ سے مدد طلب کرتے ہیں، اور یہی سلف صالحین اور ان
- قرآن پڑھنے اور سننے کا اہتمام نہ کرنا۔
- اس کو یا د نہ کرنا
- اس پر عمل نہ کرنا
- اس سے شفا حاصل نہ کرنا
- اس میں غور وفکر نہ کرنا
اللہ تعالی کا ارشاد ہے
اور رسول کہیں گے اے میرے رب بے شک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا ۔
(الفرقان: ٣٠)
اس (ذو الخویصرہ تمیمی –خوارج کے سردار) کی نسل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو قرآن کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کریں گے،لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ (مسلم)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: