وضو کی شرطیں
وضو کی دس شرطیں ہیں:
۱۔ مسلمان ہونا۔
۲۔عاقل ہونا۔
۳۔باشعور ہونا۔
۴۔نیت کرنا
۵۔وضو مکمل ہونے تک نیت نہ توڑنا۔
۶۔وضو کرتے ہوئے کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے وضوواجب ہوجاتاہے۔
۷۔وضو سے پہلے استنجاءیا استجمار کرنا۔(قضائے حاجت کی صورت میں)
۸۔پانی کا پاک اور مباح ہونا۔ ۹۔ایسی چیزوں کو زائل کرنا جو جلد تک پانی پہنچنے سے روکتی ہوں۔
۱۰۔وقت کا داخل ہونا اس شخص کے حق میں جس کا وضو بار بار ٹوٹ جاتا ہو۔
استنجا: پاخانہ پیشاب کے راستے سے نکلنے والی نجاست کو پانی سے دور کرنا۔
استجمار: پاخانہ پیشاب کے راستے سے نکلنے والی نجاست کوتین پتھروں سے دور کرنا۔
وضو کی بعض شرطوں کی وضاحت
- وضو مکمل ہونے تک نیت نہ توڑنا، یعنی: نیت کا وضو کی شروعات سے آخر تک موجود ہونا۔
- وضو کرتے ہوئے کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے،مثال کے طو رپر :وضو کے دوران اونٹ کا گوشت نہ کھانا اور نہ ہی قضاء حاجت کرنا، بلکہ وضو شروع کرنے سے پہلے ان تمام امور سے فارغ ہوجانا ضروری ہے جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
- وضو سے پہلے استنجا یا استجمار کرنا ۔یعنی:جب قضاء حاجت سے فارغ ہو۔ اگر ہوا خارج ہونے یا نیند سے بیدار ہونے یا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرے تو اس کی ضرورت نہیں ہے۔
- پانی کا پاک یا مباح ہونایعنی:ناپاک پانی یا غصب کئے ہوئے پانی سے وضوء جائز نہیں ہے۔
- ہر اس چیزکو زائل کرنا جو جلد تک پانی پہنچنے سے روکے۔جیسے:گوندھا ہوا آنٹا نیل پالش وغیرہ۔
فطری خصلتیں
۱۔ختنہ کرنا:یہ مردوں کے حق میں واجب ہے،اور عورتوں کے حق میں بوقت ضرورت سنت ہے۔ ۲۔مونچھیں کترنا ،
۳۔ناخن تراشنا،
۴۔بغل کے بال اکھیڑنا،
۵۔زیر ناف بال کا صاف کرنا:انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ آپ ﷺ نے "مونچھ کترنے،ناخن تراشنے،بغل کے بال اکھیڑنے اورزیر ناف بال کے صاف کرنے کے سلسلے میں یہ مدت مقرر کی ہے کہ ہم ان کاموں کوچالیس دنوں سے زیادہ نہ چھوڑیں "۔مطلب یہ کہ ان امور میں چالیس دن سے زیادہ تاخیر غیر مناسب ہے۔
۶۔داڑھی کو اپنی حالت پر چھوڑدینا:یہ واجب ہے اور اس کامونڈنا کبیرہ گناہوں میں سےہے۔
۷۔مسواک کرنا:پیلو کے درخت وغیرہ کی لکڑی سے دانتوں کو صاف کرنا، یہ سنت ہے،اور کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے ،البتہ وضو ،نماز ،گھرمیں داخلے ،تلاوت قرآن ،نیند سے بیداری کے وقت،موت کے وقت اور منھ کی بدبو دور کرنے کے لیے اس کی بڑی تاکید آئی ہے۔