نماز کی شرطیں
نماز کی ۹ شرطیں ہیں:
۔۱مسلمان ہونا۔ ۲۔عاقل ہونا۔ ۳۔سن تمییز کو پہنچنا۔
۔۴حدث سے پاک ہونا۔ ۵۔نجاست سے پاک ہونا۔ ۶۔ستر پوشی کرنا۔
۷۔ نماز کے وقت کا داخل ہونا۔ ۸۔قبلہ کی طرف رخ کرنا۔ ۹۔نیت کرنا۔
پہلی شرط :مسلم ہونا
اسلام کی ضد کفر ہے،لہذا اگر ایسا شخص نماز ادا کرے جو اپنے رب کو گالی دیتا ہے یا عبادت میں سے کچھ بھی غیر اللہ کے لیے انجام دیتا ہے تو اس کی نماز باطل ہے مگریہ کہ وہ سچی توبہ کرے۔
دوسری شرط:عاقل ہونا
عقل کی ضد جنون ہے،لہذامجنون شخص کی نماز صحیح نہ ہوگی اور نشہ میں مبتلا شخص کی نماز بدرجہ اولی صحیح نہیں ہوگی۔
تیسری شرط:سن تمییز کو پہنچنا
سن تمییزکو پہنچنے سے مراد بالغ ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ ایسی عمر کو پہنچ جائے جس میں چیزوں کے درمیان فرق کرسکے اورسوال کاجواب بحسن و خوبی دے سکے،سن تمییز کی کوئی عمر متعین نہیں ہے لیکن عام طور پر سات سال میں بچے تمیز کرنے لگتے ہیں۔
بچے کی نماز کب درست ہوگی؟جب انہیں چیزوں کے درمیان فرق کرنے کا شعورپیداہوجائے،سوال وجواب کی معرفت ہو جائے،اور آگ وپانی کے درمیان بآسانی فرق بتا سکے،ورنہ اس کی نمازدرست نہیں ہوگی ۔
چوتھی شرط:حدث کو دورکرنا
اور اس میں داخل ہیں:
حدث اکبر
غسل کے ذریعے دور ہوتا ہے
حدث اصغر
وضو ء کے ذریعے دورہوتا ہے۔
پانچویں شرط:نجاسست کو زائل کرنا
یعنی نجاست کو بدن ،زمین اور کپڑے سے دور کرنا،اگر کوئی شخص نماز پڑھ لے اس حالت میں کہ نجاست موجود تھی اور اسے اس کی جانکاری تھی اور وہ اسے زائل کرنے پر قادر تھا اور اسے یاد بھی تھا تو اس کی نماز باطل ہوگی۔ نجاست کی تین قسمیں ہیں
نجاست مغلظہ
جسے دھوئے بغیر پاکی حاصل نہیں ہوتی۔جیسے:کتے کی نجاست،نبی ﷺ نے اس برتن کو جس میں کتا منھ ڈال دے ،سات باردھونے کا حکم دیا،جس میں پہلی بار مٹی سے دھونا ہے۔(مسلم)
نجاست مخففہ
جس پر پانی کا چھڑکاؤ کردینا کافی ہے،نچوڑنا ضروری نہیں۔جیسے:بچے کاپیشاب جس نے کھانا پینا شروع نہ کیا ہو۔اسی طرح مذی اورمنی باوجودیکہ منی پاک ہے لیکن آپ ﷺ پانی کی چھینٹ مارتے تھے جب گیلی ہوتی، اور ناخن سے کھرچ دیتے جب سوکھی ہوتی۔
نجاست متوسطہ
جسے دھونے سے پاکی حاصل ہوجاتی ہے اوردھونے سے مراد پانی چھڑکنا اور اسے نچوڑنا بھی ہے۔جیسے:مردو عورت کا پیشاب وغیرہ۔