سورہ لہب کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے
تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ (المسد: 1).
مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ (المسد: 2).
سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ (المسد: 3).
وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ (المسد: 4).
فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِنْ مَسَدٍ (المسد: 5).
ترجمہ: ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ[خود]ہلاک ہوگیا۔نہ تو اس کا مال اسے کام آیا اور نہ اس کی کمائی ۔وہ عنقریب بھڑکنے والی آگ میں جائےگا۔اوراس کی بیوی بھی [جائے گی]،جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے۔ اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی۔
تفسیر
:ابولہب،نبی کریم ﷺکا چچا تھا،آپ سے شدید عداوت رکھتا تھا اور آپ کو سخت اذیت پہنچاتا تھا،اس میں دین کی کوئی رمق تھی، نہ ہی قرابت کی حمیت ۔اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ذم
عظیم کے ذریعے اس کی مذمت بیان فرمائی جو قیامت کے دن تک اس کے لیے رسوائی ہے۔چنانچہ فرمایا: ﱠ یعنی اس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ بدبختی میں پڑگیا۔اس نے نفع حاصل نہ کیا وہ مال اس کے کسی کام نہ آیا جو اس کے پاس تھابلکہ اس مال نے اسے سرکش بنا دیا تھا اور جو مال اس نے کما یا تھا،جب اللہ کا عذاب نازل ہواتو وہ اس عذاب کو کچھ بھی دور نہ کرسکا "جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا"۔یعنی آگ اسے ہرجانب سے گھیر لے گی۔ اور اس کی بیوی بھی جو لکڑیاں اٹھانے والی ہے"۔اس کی بیوی بھی رسول ﷺ کوسخت اذیت پہنچاتی تھی،میاں بیوی دونوں گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے تھے،اس نے رسول اللہ e کو تکلیف پہنچانے اور اذیت دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔اس کی پیٹھ پر بوجھ لاد دیا جائے گا اس شخص کے مانند جو ایندھن اکٹھا کرتا ہے۔اس کی گردن میں ڈالنے کے لیے ایک رسی تیار کی گئی ہے ﱡﲑ ﲒ ﱠ یعنی کھجور کے پتوں کے ریشے سے بنی ہوئی۔یا اس کے معنی یہ ہیں کہ (جہنم میں)وہ ایندھن اٹھا اٹھا کر اپنے شوہر پر ڈالے گی اور اس کے گلے میں کھجور کے پتوں کے ریشے سے بٹی ہوئی رسی ہوگی ۔دونوں معنوں کے مطابق اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے ،کیوں کہ یہ سورۂ کریمہ اس وقت نازل ہوئی جب ابولہب اور اس کی بیوی کی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے خبردی کہ عنقریب انہیں جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔اس سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ دونوں ایمان نہیں لائیں گے۔ چنانچہ یہ اسی طرح واقع ہوا جس طرح عالم الغیب والشہادۃ نے خبر دی تھی۔
°°°°°°°°°°