اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ، اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ، لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ، لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ، مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ، یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ، وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْ ٍٔ مِّنْ عِلْمَہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآءَ، وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ، وَلَا یَئُوْدُہٗ حِفْظُہُمَا، وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ۔
ترجمہ : اللہ تعالی ہی معبود برحق ہے،جس کےسواکوئی معبود نہیں ،جوزندہ اور سب کاتھامنے والا ہے،جسے اونگھ آئے نہ نیند،اس کی ملکیت میں زمین وآسمان کی تمام چیزیں ہیں۔کون ہےجو اس کی اجازت کے بغیر اس کےسامنے شفاعت کرسکے،وہ جانتا ہےجوا ن کے سامنے ہے اور جوا ن کےپیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتےمگرجتنا وہ چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین وآسمان کو گھیر رکھا ہےاور اللہ تعالی ان کی حفاظت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے،وہ تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔
تفسیر:نبی کریم
کے فرمان کے مطابق یہ آیت قرآن مجید کی سب سے عظیم آیت ہے ۔اس میں اللہ کی توحید ،عظمت اور صفات کمال کے معانی کابیان ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں فرمایا کہ وہ اللہ کی ہی ذات ہے جس کےلیے الوہیت کے تمام معانی ثابت ہیں،اور الوہیت اور عبادت کا مستحق صرف وہی ہے،اس کے سوا ہر ایک کی الوہیت اور عبادت باطل ہے۔
اَلْحَیُّ سے مرادوہ ہستی ہے جسے کامل حیات حاصل ہو،اور یہ تمام ذاتی صفات کو مستلزم ہے، مثلاسننا ، دیکھنا ،جاننا اور قدرت رکھنا وغیرہ ۔
الْقَیُّوْمُ ﱠ اس میں اللہ تعالیٰ کے تمام فعلی صفات داخل ہیں کیوں کہ وہ قیوم ہے جو خود سے قائم ہے اور اپنی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے ،
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب رحمن کے پاس بندہ اور غلام بن کر آنے والے ہیں۔وہ مالک ہے،باقی سب مملوک ہیں۔ملکیت ،تصرف،بادشاہت اور کبریائی جیسی تمام صفات اسی کے لیے ہیں ،اور اس کے کمال ملکیت پر دلالت کرتی ہیں۔ اسی لیے فرمایا
مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔تمام شرفاء اور شفاعت کرنے والے اس کے بندے اور غلام ہیں، اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کر ہی نہیں سکتے،قرآن میں ہے کہ "آپ کہہ دیجیے کہ اللہ ہی کے لیے تمام شفاعتیں ہیں ،اسی کے لیے آسمان اورزمین کی بادشاہت ہے۔اور اللہ کسی کو صرف اس کے حق میں شفاعت کی اجازت دے گا، جس سے وہ راضی ہوگا اور وہ کسی سے اللہ کی توحید اور رسولوں کی اتباع کی بنیاد پر ہی راضی ہوگا۔جس کے اندر یہ صفت نہیں ہوگی اس کا شفاعت میں کوئی حصہ نہیں۔
یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ "وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے"۔یعنی ان کے گزشتہ اور آئندہ معاملات سے باخبر ہے۔یعنی وہ تمام معاملات کی تفصیل جانتا ہے،یعنی اگلے پچھلے، ظاہر،پوشیدہ،غیب اور حاضر سب جانتاہے۔اور اس کی کوئی حداور انتہا نہیں ہے
اِلَّا بِمَا شَآءَ، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ خود بتا دے، اس لیے فرمایا
وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْ ٍٔ مِّنْ عِلْمَہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآءَ، وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ، "اوروہ اس کے علم اور معلومات میں سے کسی چیزکا احاطہ نہیں کرسکتے،مگر جتنا وہ چاہے ۔جیسے کہ بعض شرعی اور قدری امور جو اللہ کے علوم ومعلومات کا ایک چھوٹا ساحصہ ہیں۔قرآن میں ہےفرشتوں نے عرض کیا:
يَعْلَمُ خَائِنَةَ الأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ) وہ آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیدہ باتوں کو (خوب) جانتا ہے، اور مخلوق ذرہ برابر بھی اللہ کے علم اور اسکے معلومات میں سے علم نہیں رکھتی۔
"توپاک ہے ہمارے پاس کچھ بھی علم نہیں ہےمگر اتنا ہی جو تونے ہمیں دیاہے"۔ ﱡ ﳁ ﳂ ﳃ ﳄ ﱠ اس کی کرسی کی قَالُوا سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
بھی تمام مخلوقات پر بلند ہے۔ اور تمام موجودات اسی کے زیر نگیں اور اس کے آگے سرنگوں ہیں۔ اورالْعَظِیْمُﱠ "بہت بڑاہے"۔اس میں عظمت ،کبریائی بڑائی ،بزرگی کی تمام صفات جمع ہیں ۔وہ اتنا عظیم ہے کہ تمام دلوں میں اس کی محبت قائم ہے،اور تمام روحیں اس کی عظمت کی قائل ہیں اور عارفین جانتے ہیں کہ ہر چیز کی عظمت اللہ کی عظمت کے سامنے ہیچ ہے۔چونکہ یہ آیت اللہ کے تمام اسماء وصفات کے معانی کو شامل ہے،اس لیے اس کا حق بنتا ہے کہ وہ قرآن کی سب سے عظیم آیت ہو اور جو اس کو پڑھےگا، سمجھے گا اور اس میں غوروفکرکرے گا،وہ بھی مستحق بنے گا کہ اس کا دل یقین وایمان اورعلم وعرفان سے بھرجائےاور اس طرح وہ شیطان کی برائیوں سے محفوظ ہوجائے۔