سورہ عادیات کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے
وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا (العاديات: 1).
فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا (العاديات: 2).
فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا (العاديات: 3).
فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا (العاديات: 4).
فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (العاديات: 5).
إِنَّ الإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ (العاديات: 6).
وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ (العاديات: 7).
وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ (العاديات: 8).
أَفَلاَ يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ (العاديات: 9).
وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ (العاديات: 10).
إِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَخَبِيرٌ (العاديات: 11).
ترجمہ :ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم۔پھر ٹاپ مارکر آگ جھارنے والوں کی قسم۔پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم۔پس اس وقت گردوغبار اڑاتے ہیں۔پھر اسی کےساتھ فوجوں کے درمیان گھس جاتے ہیں۔یقینا انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔اور یقینا وہ خود بھی اس پرگواہ ہے۔یہ مال کی محبت میں بھی بڑاسخت ہے۔کیا اسے وہ وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو [کچھ] ہے نکال لیا جائے گا۔اور سینوں کی پوشیدہ باتیں ظاہر کردی جائیں گی۔بے شک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہوگا۔
تفسیر
:اللہ تبارک وتعالی نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے، کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالی کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں اور اللہ تعالی نے گھوڑوں کی ان کے اس وصف میں قسم کھائی جس وصف میں حیوانات کے تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کرسکتا۔ فرمایا:وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ضَبْحًاﱠ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ فَالْمُورِيَاتِ " پھر ٹاپ مارکر آگ جھارنے والوں کی قسم"۔قَدْحًا "ٹاپ مارکر"۔ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے کھروں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔فَالْمُغِيرَاتِ دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی صُبْحًاصبح کے وقت"۔اور یہ امر غالب ہے کہ (دشمن پر) شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔ فَأَثَرْنَ بِهِﱠ یعنی اپنے دوڑنے اور شب خون مارنے کے ذریعہ سےنَقْعًا غبار اڑاتے ہیں۔ ﱡ فَوَسَطْنَ بِهِ پھر جا گھستے ہیں"۔یعنی اپنے سواروں کے ساتھ جَمْعًاﱠ دشمن کے جتھوں کے درمیا ن جن پر دھاوا کیا ہے
جواب قسم، اللہ تبارک وتعالی کا یہ ارشاد ہے:إِنَّ الإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے"۔
یعنی وہ اس بھلائی سے روکنے والا ہے جس سے اللہ تعالی نے اس کو نوازا ہے۔ انسان کی فطرت اور جبلت یہ ہے کہ اس کا نفس ان حقوق کے بارے میں جو اس کے ذمّے عائد ہوتے ہیں، ان کو کامل طور پر اور پورے پورے ادا کر نے میں فیاضی نہیں کرتا بلکہ اس کے ذمّے جو مالی یا بدنی حقوق عائد ہوتے ہیں ،ان کے بارے میں اس کی فطرت میں سستی اور حقوق سے پہلو تہی کرنا داخل ہےسوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالی نے ہدایت سے بہرہ مند کیا، اور اس نے اس وصف سے باہر نکل کر حقوق کی ادائیگی میں فیاضی کے وصف کو اختیار کرلیا۔وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ''اور وہ اس پر گواہ ہے"۔یعنی انسان اپنے نفس کی تنگی و بخالت اور ناشکرے پن کی معروف صفت کا گواہ ہے ، نہ اس کو جھٹلا سکتا ہے اور نہ ہی اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالی کی طرف لوٹتی ہو،یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالی اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کیلیے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے، سخت وعید اور تہدید (وارننگ) ہے کہ اللہ تعالی اس پر شاہد ہے۔
ﱡ وَإِنَّهُﱠ اور بلاشبہ انسان لِحُبِّ الْخَيْرِ مال کی محبت میں ﱡ لَشَدِيدٌﱠ "بہت سخت ہے"۔یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اورمال کی محبت ہی اس کے لئے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔
یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا۔اس لئے اللہ تعالی نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا: ﱡأَفَلاَ يَعْلَمُﱠ یعنی اپنے آپ کو دھوکے میں رکھنے والا یہ شخص کیا نہیں جانتا؟ ﱡ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِﱠ جب اللہ تعالی قبروں میں سے مردوں کو،ان کے حشر ونشر کے لئے نکالے گا وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِﱛ ﱜﱠ اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اورواضح ہو جائے گا، سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آجائے گاإِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَخَبِيرٌﱢﱠ بے شک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی، کھلے اور پوشیدہ اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔اللہ تعالی نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے، جب کہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے،کیونکہ اس سے مراداعمال کا وہ بدلہ ہےجس کا سبب اللہ تعالی کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔