[سورہ قارعہ کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے]
الْقَارِعَةُ (القارعة: 1).
مَا الْقَارِعَةُ (القارعة: 2).
وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ (القارعة: 3).
يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ (القارعة: 4).
وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ (القارعة: 5).
فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ (القارعة: 6).
فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ (القارعة: 7).
وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ (القارعة: 8).
فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ (القارعة: 9).
وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ (القارعة: 10).
نَارٌ حَامِيَةٌ (القارعة: 11).
ترجمہ: کھڑکھڑا دینے والی ۔کیا ہے وہ کھڑکھڑادینے والی۔تجھےکیا معلوم کہ وہ کھڑکھڑا دینے والی کیا ہے۔جس دن انسان بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوجائیں گے۔اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے۔پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے۔وہ تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگا۔اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہے۔تجھے کیا معلوم کہ وہ کیا ہے۔وہ تندو تیز آگ[ہے]۔
تفسیر:
ﱡ الْقَارِعَةُ ﱠ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لئے موسوم کیا گیا ہےکیونکہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کردے گی۔اسی لئے اللہ تعالی نے اس کی ہولناکی اور سنگینی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﱡ
الْقَارِعَةُ (القارعة: 1).
مَا الْقَارِعَةُ (القارعة: 2).
وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ (القارعة: 3).
"کھڑ کھڑا دینے والی۔کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُﱠ جس دن ہو جائیں گے لوگ۔سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ "بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح"۔یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے جو ایک دوسرے میں موجزن ہو۔(الفراش) یہ وہ حیوانات(پتنگے) جو رات کے وقت (روشنی میں) ہوتے ہیں، اور ایک دوسرے کی ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں، اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں،جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کرکے اس میں آگرتے ہیں۔ یہ تو حال ہوگا عقلمند لوگوں گا۔وَتَكُونُ الْجِبَالُﱠ بڑے ٹھوس اورسخت پہاڑ تو كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ دھنی ہوئی اون کی طرح ہو جائیں گے جو نہایت کمزور ہو گئی ہو جسے معمولی سی ہوا بھی اڑائے پھرتی ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا:وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ (النمل: ۸۸/۷۲) ۔ "اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں، حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے"۔پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا جو دیکھا جائے۔
اس وقت ترازو نصب کردیےجائیں گے اور لوگ دو قسموں میں منقسم ہو جائیں گے خوش بخت لوگ اور بد بخت لوگ۔ لہذا جس کا اعمال وزنی نکلے گا"۔یعنی جس کی نیکیوں کا پلڑا جھک جائے گا اوربرائیوں کاپلڑا اٹھ جائے گا ﱡ ﱠ وہ تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہوگاﱠ "اور جس کا اعمال نامہ ہلکا نکلے گا"۔یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کےمقابلے میں آسکیں تو اس کا ٹھکانہ اور مسکن جہنم ہوگا جس کے ناموں میں سے ایک نام (ﲉ) ہے، جہنم اس کے لئے بمنزلہ ماں کے ہوگا جو اپنے بیٹے کو ساتھ رکھتی ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: "بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے"۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کادماغ جہنم میں گرے گایعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔
ﱡ ﲋ ﲌ ﲍ ﲎﱠ "اور تم کیا سمجھو کہ وہﱠ کیا ہے"۔یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اللہ تعالی نے اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: سخت حرارت والی آگ۔ اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہوگی۔ (حدیث میں ہے کہ دنیاکی آگ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔بخاری)،ہم اس آگ سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہیں۔
°°°°°°°°°°