سورہ عصر کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے
وَالْعَصْرِ (العصر: 1).
إِنَّ الإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ (العصر: 2).
إِلاَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر: 3).
ترجمہ: زمانے کی قسم ۔بے شک [بالیقین]انسان سر تا سر نقصان میں ہے۔سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور [جنہوں نے]آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرےکو صبر کی نصیحت کی۔
[سورہ عصر کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے]
ﱁ ﱂ ﱃ ﱄ
ﭐﱡﭐ ﱁ ﱂ ﱃ ﱄ ﱅ ﱆ ﱇ ﱈ ﱉ ﱊ ﱋ ﱌ ﱍ ﱎ ﱏ ﱐﱑﱠ
ترجمہ: زمانے کی قسم ۔بے شک [بالیقین]انسان سر تا سر نقصان میں ہے۔سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور [جنہوں نے]آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرےکو صبر کی نصیحت کی۔
تفسیر:
اللہ تبارک وتعالی نے زمانے کی قسم کھائی ہے جو گردش شب وروز کا نام ہے جو بندوں کے اعمال اور ان کے افعال کا موقع ومحل ہے کہ بے شک انسان خسارے میں ہے۔ (خاسر)نفع اٹھانے والے کی ضد ہے۔
خسارے کے متعدد اور متفاوت مراتب ہیں۔ کبھی خسارہ مطلق ہوتا ہے،جیسے اس شخص کا حال جس نے دنیا وآخرت میں خسارہ اٹھایا، جنت سے محروم ہوا اور جہنم کا مستحق ہوا۔کبھی خسارہ اٹھانے والا کسی ایک پہلو سے خسارے میں رہتا ہے،کسی دوسرے پہلو سے خسارے میں نہیں رہتا ، بنابریں اللہ تعالی نے خسارے کو ہر انسان کے لئے عام قرار دیا ہے سوائے اس شخص کے جو ان چار صفات سے متصف ہے:
۱-ان امور پر ایمان لانا جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے اور ایمان علم کے بغیر نہیں ہوتا اس لئے علم ایمان ہی کی فرع ہے اورعلم کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔
۲-نیک عمل : یہ تمام ظاہری اور باطنی بھلائی کےکاموں کو شامل ہے جو اللہ تعالی اور بندوں کے حقوق واجبہ ومستحبہ سے متعلق ہیں۔
۳- ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرنا، حق ایمان اور عمل صالح کا نام ہے، یعنی اہل ایمان ایک دوسرے کو ان امور کی وصیت کرتے ہیں، ان پر ایک دوسرے کوابھارتے ہیں اور ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہیں۔
۴- اللہ تعالی کی اطاعت کرنے ، اس کی نافرمانی سے باز رہنے اور اس کی تکلیف دہ تقدیر پر صبر کرنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرنا۔
اس طرح ایمان اور عمل صالح کے ذریعے بندہ مومن اپنے آپ کی تکمیل کرتا ہے اور حق کی وصیت اور صبر