سورہ ہمزۃ کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے
وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ (الهمزة: 1).
الَّذِي جَمَعَ مَالاً وَعَدَّدَهُ (الهمزة: 2).
يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ (الهمزة: 3).
كَلاَّ لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ (الهمزة: 4).
وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحُطَمَةُ (الهمزة: 5).
نَارُ اللَّهِ الْمُوقَدَةُ (الهمزة: 6).
الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الأَفْئِدَةِ (الهمزة: 7).
إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُوصَدَةٌ (الهمزة: 8).
فِي عَمَدٍ مُمَدَّدَةٍ (الهمزة: 9).
ترجمہ : بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے والا، غیبت کرنے والاہو۔جومال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے ۔وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا۔ہرگز نہیں یہ تو ضرور توڑ پھوڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا۔اور تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہوگی؟ وہ اللہ تعالی کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی۔جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی۔وہ ان پرہرطرف سے بند کی ہوئی ہوگی۔بڑے بڑے ستونوں میں۔
تفسیر:
ﱡﭐﱒ ﱠ یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ہر اس شخص کے لئے جو عیب ٹٹولنے والا، غیبت کرنے والاہو"۔یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول سے چغل خوری کرتا ہے۔ﱡﭐ همّاز ﱠ اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے،اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے۔ ﱡﭐلمّاز ﱠ اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں میں عیب نکالتا ہے۔ اس طعن کرنے والے اور عیب جو کی صفت یہ ہے کہ مال جمع کرنے، اس کو گننے اور اس پر خوش ہونے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں، بھلائی کے راستوں میں اور صلہ رحمی کے لئے اس مال کو خرچ کرنے میں اسے کوئی رغبت نہیں۔ ﱡﱜ ﱠ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے ﱡ ﱠ کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا ،اسی لئے اس کی تمام کد وکاوش اپنا مال بڑھانے میں صرف ہوتی ہے جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کے یہ اس کی عمر کو بڑھاتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بخل عمروں کو ختم
اور شہروں کو برباد کردیتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
ﱡﱡﱢ ﱣ ﱠ یعنی اسے ضرور پھینکا جائے گا ﱡﱤ ﱥ ﱦ ﱧ ﱨ ﱩ ﱪﱠ " حطمہ میں، اور تجھے کیا معلوم کہ حطمہ کیا ہے"؟یہ اس کی خطورت اور اس کی ہولناکی کا بیان ہے پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﱡﱬ ﱭ ﱮ ﱠ " وہ اللہ تعالی کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی"۔( جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔) ﱡﱰ ﱠ جو اپنی شدت کے باعث ﱡﱱ ﱲ ﱳ ﱠ جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔
اتنی سخت حرارت کے باوجود، وہ اس آگ میں قید ہوں گے، اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے۔ اس لئے فرمایا ﱡﱵ ﱶ ﱷ ﱠ یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کردی جائی گی دروازوں کے پیچھے بڑے بڑے ستونوں میں تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا: 'جب بھی وہ اس آگ سے باہر نکلنا چاہیں گے،اسی میں لوٹا دیے جائیں گے"۔ ہم اس سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ تعالی سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔