سورہ فیل کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے
أَلَمْ تَرَى كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيل الفيل: 1).
أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ الفيل: 2).
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ الفيل: 3).
تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ الفيل: 4).
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ الفيل: 5).
ترجمہ: کیا تونے نہ دیکھاکہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟کیا ان کے مکر کو بے کار نہیں کردیا؟اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے۔جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے۔لہذا انہیں کھائے ہوئے بھونسے کی طرح کردیا۔
تفسیر:
کیا آپ نے اللہ تعالی کی قدرت، اس کی عظمت شان، اپنے بندوں پر اس کی رحمت، اس کی توحید کے
دلائل اور اس کے رسول محمد rکی صداقت کو نہیں دیکھا(جانا)، کہ اللہ تعالی نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ جنہوں نے اس کے حرمت والے گھر کے خلاف سازش کی اور اس کو ڈھانے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ اس کے لیے انہوں نے خوب تیاری کی اور اللہ کے گھر کو منہدم کرنے کے لیے اپنے ساتھ ہاتھی بھی لے لیے تھے۔
وہ حبشہ اور یمن سے ایک ایسی فوج لے کر آئے جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہ تھا۔جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عربوں میں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ اہل مکہ ان کے خوف سے مکہ سے نکل گئے تھے۔ اللہ تعالی نے ان پر پرندوں کے جوق در جوق غول بھیجے جو مٹی اور پتھر کی گرم کنکریاں اٹھائے ہوئے تھے۔ چنانچہ پرندوں نے یہ کنکریاں ان پر پھینکیں اور دور اور نزدیک سب کو نشانہ بنایا او روہ سب موت کے گھاٹ اتر گئے ۔ اور وہ یوں ہو گئے جیسے کھایا ہوا بھوسا۔اللہ تعالی ان کے شر کے لیے کافی ہو گیا اور اس نے ان کی چال کو انہی پر لوٹا دیا۔
ان کایہ واقعہ بہت مشہور اور معروف ہے۔ یہ واقعہ رسول r کی پیدا ئش کےسال پیش آیا ۔ لہذا یہ واقعہ آپ کی دعوت کی تمہیداور آپ کی رسالت کی دلیل بن گیا۔ تمام طرح
کی حمد و ثنا اور شکر وسپاس اللہ ہی کے لئے ہے۔