سورہ اخلاص کی تفسیر اور یہ مکی سورت ہے]
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (الإخلاص: 1).
اللَّهُ الصَّمَدُ (الإخلاص: 2).
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (الإخلاص: 3).
وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ (الإخلاص: 4).
ترجمہ: آپ کہہ دیجیے :وہ اللہ یکتا ہے۔اللہ بے نیازہے۔نہیں جنا اس نے(کسی کو) اور نہیں وہ(خود) جناگیا۔اور اس کا ہمسرکوئی بھی نہیں۔
تفسیر
: یعنی: اس حقیقت پر اعتقاد رکھتے ہوئے اور اس کے معنی کو جانتے ہوئے، حتمی طور پر کہہ دیجیے وہ اللہ ایک ہی ہے۔یعنی وحدانیت اسی کی ذات میں منحصر ہے ۔وہ ہر قسم کے کمال میں واحد اور منفرد ہے ، اسمائے حسنی ، صفات کاملہ وعالیہ اور افعال مقدسہ کامالک ہے۔
اس کا کوئی نظیر ہے نہ ہم مثل اللہ بے نیاز ہے"۔یعنی تمام حوائج میں لوگ اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ عالم بالا اور عالم زیریں کے رہنے والے سب اس کے انتہائی محتاج ہیں ،اسی سے اپنی حاجتوں کا سوال کرتے ہیں،اپنے اہم امور میں اسی کی طرف راغب ہوتے ہیں، کیوں کہ وہ اپنے اوصاف میں کامل ہے۔ وہ علیم ہے جو اپنے علم میں کامل ہے،حلیم ہے جو اپنے حلم میں کامل ہے ،اور رحیم ہے جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ فگن ہے۔اسی طرح وہ اپنے تمام اوصاف میں کامل ہے ۔ یہ اس کا کمال ہے ک نہ اس نے کسی کو جنم دیا ہے ، نہ اسے کسی نے جنم دیا ہے کیوں کہ وہ کامل طور پر بے نیاز ہے اس کے اسماء میں نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں کوئی اس کا ہمسر ہے۔ اس کی ذات بابرکت اور بہت بلند ہے۔یہ سورۂ کریمہ توحید اسماء و صفات پر مشتمل ہے۔