دوسرا سبق: اسلام کے ارکان
اسلام کے پانچ ارکان ہیں: سب سے پہلا اورعظیم ترین رکن: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّد رَسُولُ اللَّهِ کی گواہی اس کے معانی اور شروط کے ساتھ دینا ہے ۔
معنی : لَا إِلَهَ میں اللہ کے علاوہ تمام معبودان باطلہ کی نفی ہے اور إِلَّا اللَّهُ میں تمام عبادات کا اللہ کے لیے اثبات ہے۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کے شروط:
1- ایسا علم جو جہل کے منافی ہو۔ 2- ایسا یقین جو شک کے منافی ہو۔
3- ایسا اخلاص جو شرک کے منافی ہو۔ 4- ایسی سچائی جو جھوٹ کے منافی ہو۔
5- ایسی محبت جو بغض کے منافی ہو۔ 6- ایسی طاعت جو نافرمانی کے منافی ہو۔
7- ایسا قبول جو انکار کے منافی ہو۔ 8- اللہ کے علاوہ تمام معبودان باطلہ کا انکار ۔
ان تمام شرطوں کو ان دو اشعار میں جمع کردیاگیا ہے:
| علم ویقین وإخلاص وصدقک مع | محبة وانقیاد والقبول لها | |
| وزید منها الکفران منک بما | سوی الإله من الأشیاء قد ألها |
محمد رسول اللہ کی گواہی اور اس کے تقاضے کا بیان: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی خبر کی تصدیق کرنا، آپ کے حکم کی تعمیل کرنا، آپ کی منع کردہ چیزوں سے رک جانا اور آپ کی لائی ہوئی
شریعت کے مطابق اللہ تعالی کی عبادت کرنا۔ پھر طالب علم کے سامنے بقیہ اسلامی ارکان کا ذکر کیا جائے، جو کہ یہ ہیں: نمازقائم کرنا ، زکاۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اور صاحب استطاعت کیلئے بیت اللہ کا حج کرنا