لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کے ارکان
انکار:( لَا إِلَهَ )
یعنی اللہ کے علاوہ تمام معبودان باطلہ کا انکار کرنا۔
[طاغوت کا انکار]
اثبات: ( إِلَّا اللَّهُ)
صرف اللہ تعالی کے لیے عبادت کو ثابت کرنا۔
[اللہ پر ایمان]
| لکلمة الاخلاص رکنان ھما لکلم ۃ الاخلاص رکنان ھما | النفي والاثبات فاحفظهما |
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کے شروط کی تشریح
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کے شروط کی مثال کنجی کے دندانوں کی طرح ہے، چنانچہ کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ جنت کی کنجی ہے اور کنجی بغیر دندان کے نہیں کھولتی ، بنابریں قرآن وحدیث میں جو وارد ہے کہ جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا تو اس کیلئے اجر وثواب ہے، تو اس کے حصول کے لیے ان شروط کا بجالانا ضروری ہے اور وہ آٹھ ہیں:
۱-کلمہ
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کے معنی کا علم: اور اس کی ضد جہالت ( اس کے معانی کا نہ جاننا) ہے،چنانچہ جو شخص اس کے معنی سے ناواقف رہا وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اور اسی لیے جو شخص دائرہ اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے اس کیلئے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کے معنی کو جاننا بے حد ضروری ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ رواه مسلم "جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کے معنی کو جانتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا"
۲- یقین:
یعنی سو فیصد یقین، چنانچہ جس شخص نے سو میں سے ایک فیصد بھی معبودان باطلہ کے انکار میں شک کیا، یا توقف اختیار کیا، یا تردد کیا تو وہ موحد نہیں ہے، اور اگر یہود ونصاری کے کفر میں شک کیا جن تک دعوت محمدی پہنچ چکی ہوتو وہ موحد نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، لَا يَلْقَى اللهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ رواه مسلم "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، جس نے اللہ تعالی سے ان دونوں کے ساتھ اس حال میں ملاقات کی ہو کہ اسے ان دونوں میں ذرا بھی شک نہیں تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا" [صحیح مسلم]
۳- اخلاص:
جس شخص نے اس کلمہ کی شہادت میں ریاکاری سے کام لیا یا شرک اکبر کا ارتکاب کیا-جیسے غیر اللہ کی عبادت کی- تو یہ کلمہ اسے فائدہ نہیں پہنچائے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ، مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ، أَوْ نَفْسِهِ رواه البخاريمیری شفاعت کا سب سے زیادہ حقدار وہ نیک بخت ہے جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کا اقرار خلوص دل یا خلوص جان سے کیا ہو.
۴-سچائی:
جس شخص نے جھوٹے دل سے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کا اقرار کیا-جیسے کہ منافق- تو اسے یہ کلمہ کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا، نبی کریم کا ارشاد ہے: مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ، إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِمتفق عليه جس کسی نے سچے دل سے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اورمحمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں ،تو اس کلمے کا اقرار کرنے والے کے لیے اللہ تعالی اس پر جہنم حرام کردے گا۔
۵-محبت:
جو شخص اللہ سے محبت کرتا ہو اور اللہ تعالی کے ساتھ کسی اور سے محبت نہیں کرتا ہو ، اور اللہ نے جس سے محبت کا حکم دیا ہے اسی سے محبت کرتا ہو. اس کی ضد بغض ہے، لہذا نواقض اسلام میں سے یہ ہےکہ : (جس شخص نے رسول کی لائی ہوئی شریعت سےبغض رکھا تو اس نے کفر کیا گرچہ وہ اسلام پر عمل پیرا کیوں نہ ہو، اللہ کا فرمان ہے: اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کےسوا شریک بناکر ان سے اس طرح محبت کرتے ہیں جیسے اللہ سے محبت ہوتی ہے۔
۶- انقیاد
:یعنی: اس کلمہ توحید پر عمل کرنا ضروری ہے، چنانچہ جس نے اس پر عمل نہ کیا یہ اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا، ارشاد ربانی ہے: ﱡ )قسم ہے تیرے رب کی ،وہ ایمان والے نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ آپ کو اپنے آپسی تنازعات میں حکم مان لیں پھر آپ جو فیصلے کردیں اس سے اپنے دل میں کوئی تنگی نہ محسوس کریں اور سرتسلیم خم کردیں۔
۷- قبول:
کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ قولی،عملی اور اعتقادی طور پر اسے ادا کرے، اللہ تعالی کا فرمان ہے جب ان سے کہاجاتا ہےکہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو نکیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا ہم مجنوں شاعر کے لیے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں۔
۸-کفر:
یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ اللہ کے علاوہ جن معبود ان کی عبادت کی جاتی ہے، ان کی عبادت باطل ہے، اور اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔
نوٹ:
کلمہ اخلاص کے لیے قول، عمل اور اعتقاد کا ہونا بے حد ضروری ہے۔