ایمان کے ارکان
اللہ پر ایمان ، اس کے فرشتوں پر ایمان ، اس کی کتابوں پر ایمان،اس کے رسولوں پر ایمان، یوم آخرت پر ایمان اور تقدیر پر ایمان لانا خواہ خیر والی ہو یا شر والی۔
ایمان کی اصطلاحی(شرعی)تعریف
زبان سے اقرار کرنا،دل میں اعتقاد رکھنا،اورجوار ح و اعضا کے ذریعے اس پر عمل کرنا ، اور ایمان اطاعت سے بڑھتا ہے اور معصیت سے گھٹتا ہے۔
فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ رواه مسلم
قول کی دلیل: آپ ﷺ نے فرمایا:
ایمان کاسب سے افضل شعبہ لاالہ الااللہ کا اقرار کرنا ہے۔
وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ
عمل جوارح کی دلیل: آپ ﷺ کافرمان:
رواه مسلم
ایمان کا ادنی شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے۔
عمل قلب کی دلیل،آپ ﷺ کا فرمان:
وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ
رواه مسلم
شرم وحیا ایمان کی افضل شاخ ہے۔
ایمان میں زیادتی کی دلیل،اللہ تعالیٰ کا فرمان:
یعنی:تم میں سے کس کے ایمان میں اس سے
ایمان میں کمی کی دلیل،آپ ﷺکافرمان:
مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ
رواه البخاري
میں نے عورتوں سے زیادہ عقل و دین میں ناقص کسی کو نہیں پایا۔
ایمان میں زیادتی کے اسباب
- توحیدکا مطالعہ کرنا خصوصا توحید اسما وصفات کا ۔
- نافرمانی اور گناہ کے کاموں سے بچنا۔
- اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور وفکر کرنا۔
- اطاعت وفرماں برداری کے اعمال بکثرت انجام دینا۔
ایمان میں کمی کے اسباب
- اطاعت وفرماں برداری کے کام نہ کرنا۔
- نافرمانی وگناہ کے کام کرنا۔
- اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور وفکر نہ کرنا۔
- توحیدکا مطالعہ نہ کرنا، خصوصا توحید اسما وصفات کا۔
ایمان کے چھ ارکان ہیں
- اللہ پر ایمان ۔
- فرشتوں پر ایمان ۔
- کتابوں پر ایمان ۔
- رسولوں پر ایمان۔
- یوم آخرت پر ایمان ۔
- تقدیر پر ایمان لانا خواہ وہ خیر والی ہو یا شر والی ۔