چھٹا رکن: تقدیر پر ایمان لانا
چھٹا رکن: تقدیر پر ایمان لانا خواہ وہ خیر والی ہو یا شر والی ۔
اس کے چار درجات ہیں جن کو شاعرنے اپنے اس منظوم کلام میں جمع کیا ہے:
- علم،
- کتابة مولانا
- مشیئته
- وخلقه
- وهو إیجاد وتکوین
علم
اس بات پر ایمان رکھنا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر چیز کو اجمالی اور تفصیلی طور پر پہلے سے جانتا ہے،جس کی دلیل اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
{}وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔
کتابت
اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ نے قیامت تک رونماہونے والی ہر چیز کی تقدیرلکھ دی ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آسمان وزمین کی کوئی پوشیدہ چیز بھی ایسی نہیں جو روشن اور کھلی کتاب میں نہ ہو.
مشیئت
اس بات پر ایمان کہ جو کچھ اللہ نے چاہا وہ ہوا اور جو کچھ نہیں چاہا نہیں ہوا،اور بندے کو بھی ارادہ واختیارہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت وارادہ کے ماتحت ہے، اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ تعالی چاہے۔
خلق
اس بات پر ایمان رکھنا کہ بندے اور ان کے اعمال اللہ کے پیدا کردہ ہیں اور اسی طرح جملہ کائنات بھی، اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:
اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔اور اللہ نے تم کو اور تم جو عمل کرتے ہو اس کو پیدا کیا۔