توحید اور شرک کے اقسام کا بیان
توحید کی تین قسمیں ہیں: توحید ربوبیت، توحید الوہیت، اور توحید اسما و صفات۔
توحید ربوبیت کا مطلب: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق اور اس میں تصرف کرنے والا ہے، جس میں اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں۔
توحید الوہیت کا مطلب: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی ہی معبود برحق ہے،اس کا کوئی شریک وساجھی نہیں، اور یہی لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کا معنی ہے، کیونکہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کا معنی ہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ لہذا ہر طرح کی عبادت جیسےنماز، روزہ وغیرہ کو خالص اللہ کے لیے ادا کرنا واجب ہے، اور کسی اور کے لیے کرنا درست نہیں۔
توحید اسما وصفات کا مطلب:قرآن کریم اور صحیح احادیث میں وارد اللہ کے اسماء اور صفات پر ایمان لانا اور ان کو اللہ کے لیے بغیر کسی تحریف، تعطیل، تکییف اور تمثیل کے اس طرح ثابت کرنا جو اللہ کے شایان شان ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:آپ کہہ دیجیے کہ وہ اللہ تعالی ایک (ہی) ہے۔ اللہ تعالی بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔
دوسری جگہ فرمایا: اس کے جیسی کوئی چیز نہیں ہےاور وہ بڑا سننے والا دیکھنے والا ہے۔
بعض اہل علم نے توحید کی دو قسمیں بیان کی ہیں اور توحید اسماء وصفات کو توحید ربوبیت میں شامل کیا ہےاور اس میں کوئی حرج اور کوئی قابل اختلاف بات نہیں کیونکہ دونوں تقسیم میں مراد واضح ہے۔
تحریف:
اللہ کےنام یا صفت میں لفظی یامعنوی تبدیلی کرنا اضافہ کرکے یا حذف کرکے۔
تعطیل:
اللہ کے اسما یا صفات کاکلی یاجزئی طور پر انکار کرنا۔
تکییف:
اللہ کے نام یا صفت کی کیفیت بیان کرنا۔
تمثیل:
اللہ کے نام یا صفت کوکسی مخلوق کے نام یاصفت کےمثل قرار دینا۔
تشبیہ:
اللہ کے نام یا صفت کو کسی مخلوق کے نام یا صفت کےمشابہ قرار دینا۔
شرک کی تین قسمیں ہیں:
- شرک اکبر ،
- شرک اصغر
- اورشرک خفی۔
جس شخص کی شرک اکبر کی حالت میں موت ہوجائے، تو یہ شرک اس شخص کے عمل کی بربادی اور دائمی جہنمی بننے کا باعث بنتا ہے، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: اور اگر وہ شرک کرتے تو ان کےاعمال برباد ہوجاتے۔ اور جس شخص کی ایسی حالت میں موت واقع ہو جائے اس کی مغفرت کبھی نہیں ہوگی، اور جنت اس پرہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے ، جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: بے شک جو اللہ کے ساتھ شرک کرے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ان ظالموں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوگا۔دوسری جگہ فرمایا: بے شک اللہ شرک کو معاف نہیں کرتااور اس کے علاوہ دوسرے گناہ کو جس کے لیے چاہے معاف کردے۔
شرک کی بعض صورتیں:
مردوں اور بتوں کو پکارنا، ان سے فریاد کرنااور مدد طلب کرنا،ان کے لیے نذر ونیاز پیش کرنا اور ذبح کرنا وغیرہ۔
شرک اصغر کا مطلب :
ایسا عمل جس کا ذکر قرآن وسنت میں آیا ہو کہ یہ شرک ہے لیکن شرک اکبر کے جنس سے نہ ہو ، جیسےکسی بھی عبادت وعمل میں ریاکاری کرنا، غیر اللہ کی قسم کھانا، اور ( ماشاء اللہ وشاء فلان) یعنی:اللہ جو چاہے اور فلاں جو چاہے کہنا وغیرہ، ارشاد نبوی ﷺ ہے: إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ " قَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الرِّيَاءُ. رواه أحمد مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ شرک اصغر کا خوف ہے ،اس کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: "ریاکاری"۔
ارشادنبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: "مَنْ حَلَفَ بِشَيْءٍ دُونَ اللهِ تَعَالَى فَقَدْ أَشْرَكَ " رواه أحمد جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔
نبی ﷺ کا ارشاد ہے: لَا تَقُولُوا مَا شَاءَ اللَّهُ، وَشَاءَ فُلَانٌ، وَلَكِنْ قُولُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ رواه ابوداود یہ نہ کہو کہ اللہ جو چاہے اور فلاں جو چاہے بلکہ یہ کہو کہاللہ جو چاہے پھر فلاں چاہے۔
شرک اصغر سے انسان نہ تو مرتد ہوتا ہے اور نہ ہی دائمی جہنمی، لیکن اس کے توحید میں ضرورکمی واقع ہوتی ہے، اور اس کمال توحید کے منافی ہے جس کا ہونا ضروری ہے۔